المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو الصهباء صهيب رجل من أهل البصرة، عن ابن عباس باب: ابوالصہباء صہیب، اہل بصرہ میں سے ایک صاحب، کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12835
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ صُهَيْبٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَرَرْتُ أَنَا وَغُلَامٌ، مِنْ قُرَيْشٍ عَلَى حِمَارٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَلَمْ يَنْصَرِفْ، وَجَاءَتْ جَارِيَتَانُ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبُ فَأَخَذَتَا بِرُكْبَتَيْهِ , فَفَرَّعَ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ يَنْصَرِفْ» هَكَذَا رَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ صُهَيْبٍ، وَخَالَفَهُ مَنْصُورٌترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”میں اور قریش کا ایک لڑکا گدھے پر سوار رسول اللہ ﷺ کے آگے سے گزرے جبکہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے نماز ختم نہیں کی۔ پھر بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آئیں اور آپ ﷺ کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، تو آپ ﷺ نے انہیں الگ الگ کر دیا اور نماز ختم نہیں کی۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے شعبہ نے حکم سے، انہوں نے یحییٰ بن جزار سے، انہوں نے صہیب سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ منصور نے اس میں ان سے اختلاف کیا ہے۔