کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوبختری کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلٍ رَأَيْنَا الْهِلَالَ , فَقَالَ: بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَأَتَيْنَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ , فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَهُوَ لَيْلَةَ رَأَيْتُمُوهُ»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: … اور بعض لوگوں نے کہا: یہ دو راتوں کا چاند ہے۔ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور عرض کیا: ہم نے ہلال دیکھا ہے، تو کچھ لوگوں نے کہا: یہ تین راتوں کا ہے، اور کچھ نے کہا: یہ دو راتوں کا ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے چاند کو اس کے نظر آنے تک کا وقت دیا ہے، سو وہ اسی رات کا ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ السَّلَمِ فِي النَّخْلِ، فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يُؤْكَلَ مِنْهُ، وَحَتَّى يُؤْوَى» قُلْتُ: مَا يُؤْوَى؟ , فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: «حَتَّى يُجْرَزَ أَوْ يُحْرَزَ»
ترجمہ
ابوالبختری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے درختوں میں سلم (پیشگی بیع) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے درخت کی بیع سے منع فرمایا جب تک اس میں سے کھایا نہ جا سکے، اور جب تک وہ محفوظ نہ ہو جائے۔“ میں نے پوچھا: محفوظ ہونے سے کیا مراد ہے؟ تو مجلس میں موجود ایک آدمی نے کہا: ”یہاں تک کہ وہ کاٹا یا محفوظ کر لیا جائے۔“