کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: زیاد، ابن عیاش کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ سَالِمًا أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ يَوْمَ مَاتَ، فَأَحْنَى عَلَيْهِ كَأَنَّهُ يُوصِيهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَأَوْا فِي عَيْنَيْهِ أَثَرَ الْبُكَاءِ، ثُمَّ أَحْنَى عَلَيْهِ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَأَوْهُ يَبْكِي، ثُمَّ أَحْنَى عَلَيْهِ الثَّالِثَةَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَلَهُ شَهيقٌ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَبَكَى الْقَوْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ؛ إِنَّمَا هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ، فَاسْتَغْفِرُوا اللهَ» ، ثُمَّ قَالَ: «أَذْهِبْ عَنْكَ أَبَا السَّائِبِ، فَلَقَدْ خَرَجْتَ وَلَمْ تَتَلَبَّسْ مِنْهَا بِشَيْءٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن ان کے پاس تشریف لے گئے، اور ان پر اس طرح جھکے گویا انہیں کوئی وصیت فرما رہے ہوں، پھر اپنا سر اٹھایا تو لوگوں نے آپ ﷺ کی آنکھوں میں رونے کا اثر دیکھا، پھر دوسری بار ان پر جھکے، پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ رو رہے ہیں، پھر تیسری بار جھکے، پھر اپنا سر اٹھایا تو آپ ﷺ سسکیاں لے رہے تھے، تو لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔ چنانچہ لوگ رونے لگے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بس کرو، یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، اللہ سے استغفار کرو۔“ پھر فرمایا: ”اے ابوسائب! (دنیا سے) رخصت ہو جاؤ، تم اس سے اس حال میں نکلے کہ اس کی کسی چیز میں ملوث نہ ہوئے۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُما، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى قَبْرِهِ قَالَ: «لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ثُمَّ رُخِّيَ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا، نبی کریم ﷺ ان کی قبر پر بیٹھے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص قبر کی آزمائش سے نجات پا سکتا تو سعد بن معاذ ضرور نجات پا جاتے، اور بے شک انہیں ایک دفعہ دبایا گیا، پھر ان سے وہ دباؤ ڈھیلا کر دیا گیا۔“