المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن سيرين، عن عثمان بن أبي العاص باب: محمد بن سیرین کی سیدنا عثمان بن ابی عاص رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 8359
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ فَيُنَادِي مُنَادٍ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابَ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى؟ هَلْ مِنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجَ عَنْهُ؟، فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللهُ لَهُ إِلَّا زَانِيَةٌ تَسْعَى بِفَرْجِهَا أَوْ عَشَّارٌ "ترجمہ
سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدھی رات کو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، تو ایک منادی ندا دیتا ہے: ہے کوئی دعا مانگنے والا کہ اس کی دعا قبول کی جائے؟ ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اسے دیا جائے؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ اس کی مصیبت دور کی جائے؟ تو کوئی مسلمان کوئی دعا نہیں مانگتا مگر اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے، سوائے اس زانیہ عورت کے جو اپنی شرمگاہ (کے ذریعے کمائی) میں لگی رہے، یا عشر وصول کرنے والے (ظالم اہلکار) کے۔“