حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زَبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا جَدِّي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَعَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سُلَيْمَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنِ ابْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: ادْعُ اللهَ لِي بِالشَّهَادَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ دَمَ ابْنِ ثَعْلَبَةَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ وَالْكُفَّارِ» قَالَ: «فَكُنْتُ أَحْمِلُ فِي عِظَمِ الْقَوْمِ فَيَتَرَاءَى لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُمْ» ، فَقَالُوا: يَا ابْنَ ثَعْلَبَةَ لَتَغْرِزُ وَتَحْمِلُ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَرَاءَى لِي خَلْفَهُمْ، فَأَحْمِلُ عَلَيْهِمْ حَتَّى أَقِفَ عِنْدَهُ، ثُمَّ يَتَرَاءَى لِي عِنْدَ أَصْحَابِي، فَأَحْمِلُ حَتَّى أَكُونَ مَعَ أَصْحَابِي» . قَالَ: فَعُمِّرَ زَمَانًا مِنْ دَهْرِهِ
ترجمہ
…ابن ثعلبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: میرے لیے شہادت کی دعا کیجیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ، میں ابن ثعلبہ کا خون مشرکوں اور کفار پر حرام کرتا ہوں۔“ کہتے ہیں: میں دشمن کی بڑی تعداد میں گھس جاتا تو نبی کریم ﷺ مجھے ان کے پیچھے دکھائی دیتے، لوگوں نے کہا: اے ابن ثعلبہ، تم دشمن پر حملہ کر کے آگے نکل جاتے ہو، تو انہوں نے کہا: ”نبی کریم ﷺ مجھے ان کے پیچھے دکھائی دیتے ہیں، تو میں ان پر حملہ کرتا ہوں یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس پہنچ جاؤں، پھر آپ ﷺ مجھے اپنے ساتھیوں کے پاس دکھائی دیتے ہیں، تو میں پھر حملہ کرتا ہوں یہاں تک کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آ جاؤں۔“ کہتے ہیں: پھر وہ طویل عمر پائے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ جَرِيرٍ الصُّورِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ، عَنْ ضَمُرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَتَحَاسَدُوا»
ترجمہ
سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے جب تک وہ ایک دوسرے سے حسد نہ کریں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ، عَنْ ضَمُرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ، حُلَّتَانِ مِنْ حُلَلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَرَى ثَوْبَيْكَ هَذَيْنِ مُدْخِلَيْكَ الْجَنَّةَ؟» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِ اسْتَغْفَرْتَ لِي لَا أَقْعُدُ حَتَّى أَنْزَعَهُمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِضَمُرَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ» فَانْطَلَقَ مُسْرِعًا حَتَّى نَزَعَهُمَا
ترجمہ
…سیدنا ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جبکہ ان پر یمنی جوڑے کے دو کپڑے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے یہ دونوں کپڑے تمہیں جنت میں داخل کر دیں گے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، اگر آپ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں تو میں بیٹھوں گا ہی نہیں جب تک انہیں اتار نہ دوں۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ، ضمرہ بن ثعلبہ کو بخش دے۔“ تو وہ جلدی سے چلے گئے یہاں تک کہ وہ دونوں کپڑے اتار دیے۔