المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طلحة بن مالك يقال الليثي، ويقال الخزاعي باب: سیدنا طلحہ بن مالک رضی اللہ عنہ، کہا جاتا ہے لیثی، اور کہا جاتا ہے خزاعی
حدیث نمبر: 8128
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي، قَالَتْ: كَانَتْ أُمُّ الْحَرِيرِ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهَا: أُمَّ الْحَرِيرِ، مَا لَنَا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ مَوْلَايَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مِنِ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ» قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ: «وَكَانَ مَوْلَاهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ»ترجمہ
…اس سے کہا گیا: اے ام الحریر، ہمیں کیا ہو گیا کہ ہم دیکھتے ہیں جب کوئی عرب آدمی فوت ہوتا ہے تو تم پر سخت گزرتی ہے؟ اس نے کہا: میں نے اپنے آقا کو کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قیامت کے قریب آنے کی نشانیوں میں سے عربوں کی ہلاکت ہے۔“ محمد بن ابی رزین کہتے ہیں: ”اور اس کا آقا طلحہ بن مالک تھے۔“