حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: مَا الْإِثْمُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ فَدَعْهُ»
قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ»
قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، گناہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تیرے دل میں کھٹکے، اسے چھوڑ دے۔“
اس نے عرض کیا: پھر ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی برائی اسے بری لگے اور نیکی اسے خوش کر دے، وہ مومن ہے۔“
اس نے عرض کیا: پھر ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی برائی اسے بری لگے اور نیکی اسے خوش کر دے، وہ مومن ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا أَبُو ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: «إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ، وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ، فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، ایمان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تجھے تیری نیکی خوش کرے اور تیری برائی بری لگے، تو تُو مومن ہے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، هَلْ يَنْكِحُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَيَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: کیا جنتی نکاح کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور وہ کھائیں گے اور پئیں گے بھی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، وأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي شَافِعًا لِأَصْحَابِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَعَلَيْكُمْ بِالزَّهْرَاوَيْنِ: الْبَقَرَةِ، وَآلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ يُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن پڑھا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔ اور تم دو روشن سورتوں کو لازم پکڑو: سورۃ بقرہ اور سورۃ آلِ عمران، کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی گویا وہ دو بادل ہوں، یا دو سائبان ہوں، یا صف باندھے پرندوں کے دو غول ہوں، اپنے پڑھنے والے کی طرف سے قیامت کے دن جھگڑا کریں گی۔ سورۃ بقرہ پڑھا کرو، کیونکہ اسے اپنانا برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے، اور جادوگر اس پر قابو نہیں پا سکتے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَرَّابُ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: " اقْرَءُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُدَافِعُ لِأَصْحَابِهِ. اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ: الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا يَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ يُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا، اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قرآن پڑھا کرو، کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے دفاع کرے گا۔ دو روشن سورتیں پڑھو: سورۃ بقرہ اور سورۃ آلِ عمران، کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح آئیں گی گویا وہ دو بادل ہوں، یا دو سائبان ہوں، یا صف باندھے پرندوں کے دو غول ہوں، اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔ سورۃ بقرہ پڑھا کرو، کیونکہ اسے اپنانا برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے، اور جادوگر اس پر قابو نہیں پا سکتے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَبِيًّا كَانَ آدَمُ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قَالَ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ، وَإِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: «عَشَرَةُ قُرُونٍ» . قَالَ: كَمْ كَانَ بَيْنَ نُوحٍ، وَإِبْرَاهِيمَ؟ قَالَ: «عَشَرَةُ قُرُونٍ» . قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَمْ كَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: «ثَلَاثُ مِائَةٍ وَثَلَاثَةَ عَشَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے پوچھا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس صدیاں۔“ اس نے پوچھا: نوح اور ابراہیم علیہما السلام کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دس صدیاں۔“ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ، رسول کتنے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تین سو تیرہ۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْخَيَّاطُ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدْنَ وَعُمَانَ، فِيهِ الْأَكَاوِيبُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَإِنَّ مِمَّنْ يَرِدُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي الشَّعِثَةُ رُءوسُهُمِ الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ، لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلَا يَحْضُرُونَ السُّدَدَ - يَعْنِي أَبْوَابَ السُّلْطَانِ - الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلَا يُعْطَوْنَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرا حوض عدن اور عمان کے درمیان جتنا بڑا ہے، اس میں آسمان کے ستاروں کی تعداد کے برابر پیالے ہیں، جس نے اس سے پی لیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا۔ اور میری امت میں سے جو لوگ اس پر آئیں گے ان میں پراگندہ بالوں اور میلے کپڑوں والے غریب لوگ بھی ہوں گے، جو نازونعم والی عورتوں سے نکاح نہیں کر پاتے، اور نہ ہی حکمرانوں کے دربار کے دروازوں پر حاضر ہوتے ہیں، وہ لوگ جو اپنا پورا حق دوسروں کو ادا کرتے ہیں مگر انہیں ان کا پورا حق نہیں دیا جاتا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُقْبَلُ مِنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفٌ، وَلَا عَدْلٌ: عَاقٌّ، وَمَنَّانٌ، وَمُكَذِّبٌ بِقَدْرٍ "
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے قیامت کے دن نہ کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی معاوضہ: والدین کا نافرمان، احسان جتلانے والا، اور تقدیر کو جھٹلانے والا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ لَا يَتَوَضَّأُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا أَبُو قَيْسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ لَا يَتَوَضَّأُ مِنْ مُوطَأٍ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کسی روندی ہوئی (پاؤں تلے آئی) چیز سے وضو نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ يُونُسَ، ثنا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وثَوْبَانَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ بَعْدَمَا بَالَ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پیشاب کرنے کے بعد موزوں پر مسح کیا۔