کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ابوعتبہ کندی کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي عُتْبَةَ الْكِنْدِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ دَيْنًا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ لَهُ وَفَاءٌ، فَأَبَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبَكُمْ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ: أَنَا أَقْضِي عَنْهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ
وَذَكَرَ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «كَيَّتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص فوت ہوا اور دو دینار کا قرض چھوڑا جس کی ادائیگی کے لیے اس کے پاس کچھ نہ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔“ اس پر سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: میں اس کا قرض ادا کرتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
اور یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص فوت ہوا اور اس نے دو دینار چھوڑے (جو اس نے چھپا رکھے تھے)، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو داغ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7477
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 105، حدیث 7508
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَهْ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي عُتْبَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَتَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» . قُلْتُ: مَنْ رَأَيْتَ، وَمَنْ لَمْ تَرَ؟ قَالَ: «مَنْ رَأَيْتَ؟، وَمَنْ لَمْ أَرَ؟» . قُلْتُ: بِمَاذَا؟ قَالَ: «غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ»
ترجمہ
سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ، کیا آپ اپنی امت کو قیامت کے دن پہچان لیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ میں نے عرض کیا: جنہیں آپ نے دیکھا اور جنہیں نہیں دیکھا، سب کو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنہیں میں نے دیکھا اور جنہیں نہیں دیکھا، سب کو پہچان لوں گا۔“ میں نے عرض کیا: کس علامت سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کے اثر سے ان کے چہرے اور ہاتھ پاؤں روشن اور چمکدار ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7478
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 106، حدیث 7509