کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا صحار بن عباس رضی اللہ عنہ، اور کہا جاتا ہے: ابن عابس عبدی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ، عَنْ صُحَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي رَجُلٌ مِسْقَامٌ، فَائْذَنْ لِي أَنْتَبِذْ فِي جَرِيرَةٍ مِثْلَ هَاتِيهِ - يَعْنِي صَغِيرَةً - «فَأَذِنَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا صحار بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ، میں بیمار رہنے والا آدمی ہوں، مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس جیسے چھوٹے برتن میں نبیذ بناؤں — یعنی چھوٹا برتن — تو آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا وهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، كِلَاهُمَا، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صُحَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخْسَفَ بِقَبَائِلَ حَتَّى يُقَالَ مَنْ بَقِيَ مِنْ بَنِي فُلَانٍ» فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الْعَرَبَ، لِأَنَّ الْعَجَمَ لَيْسَتْ لَهَا قَبَائِلُ
ترجمہ
سیدنا صحار بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کئی قبیلوں کو زمین میں دھنسا نہ دیا جائے، یہاں تک کہ کہا جائے: فلاں قبیلے میں سے کون باقی رہ گیا؟“ میں نے سمجھا کہ آپ ﷺ کی مراد عرب سے ہے، کیونکہ عجم (غیر عرب) کے قبیلے نہیں ہوتے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي مَنْصُورٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ صُحَارَ بْنَ صَخْرٍ الْعَبْدِيَّ حَدَّثَهُ، أنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: إِنَّا بِأَرْضٍ كَثِيرَةٌ أَخْبَازُهَا وَبُقُولُهَا، وَنَشْرَبُ النَّبِيذَ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «اشْرَبُوا مِنْهُ مَا لَا يُذْهِبُ الْعَقْلَ وَالْمَالَ»
ترجمہ
سیدنا صحار بن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں روٹیوں اور ساگ کی بہتات ہے، اور ہم اسی کے ساتھ نبیذ پیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس میں سے وہ پیو جو عقل اور مال کو زائل نہ کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ صُحَارِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، أَنَّهُ قَالَ: «يَا صُحَارُ بْنَ عَبَّاسٍ أَطِبْ شَرَابَكَ، وَاسْقِ جَارِكَ»
ترجمہ
سیدنا صحار بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے صحار بن عباس! اپنا مشروب (نبیذ) پاکیزہ اور خوشگوار بناؤ، اور اپنے پڑوسی کو بھی پلاؤ۔“