کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: ثعلبہ بن عباد عبدی کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي عَبَّادٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، لَا يُسْمَعُ لَهُ صَوْتٌ»
ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کے دن انہیں نماز پڑھائی، اس میں آپ ﷺ کی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6766
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 188، حدیث 6796
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ فِي خُطْبَتِهِ يَقُولُ: بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا إِذْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ عَلَى قَدْرِ رُمْحَيْنِ وَثَلَاثَةٍ، ثُمَّ أَشْرَقَتْ حَتَّى أَضَاءَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا , لَيُحَدِّثَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ فِي شَأْنِ أُمَّتِهِ حَدِيثًا، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا الْمَسْجِدُ مَلْآنُ بِأَزَزٍ، وَوَافَقَ ذَلِكَ خُرُوجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَاسْتَقْدَمَ وَصَلَّى بِالنَّاسِ وَنَحْنُ بَعْدَهُ، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ، لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ السُّجُودِ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ قُعُودُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْصَرَفَ , فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَشَهِدَ أَنَّهُ عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ رَسُولٌ , أُذَكِّرُكُمْ بِاللهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ، وَإِنْ كُنْتُ بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي؟» فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَهَذَا الْقَمَرِ , أَوْ زَوَالَ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ مِنْ عُظَمَاءِ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا، وَلَكِنْ هُوَ آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللهِ يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ , لِيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، فَقَدْ أُرِيتُ فِي مَقَامِي وَأَنَا أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا , آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي تِحْيَى - شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - وَإِنَّهُ مَتَى خَرَجَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَ بِهِ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلٍ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ، وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ سَيُحْصَرُ الْمُؤْمِنُونَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَصْرًا شَدِيدًا وَيُؤْزَلُونَ أَزْلًا شَدِيدًا» قَالَ الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ: وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: " يُصْبِحُ فِيهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَهْزِمُهُ اللهُ وَجُنُودَهُ , حَتَّى إِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ وَغُصْنَ الشَّجَرِ لَيُنَادِي الْمُؤْمِنَ , يَقُولُ: هَذَا كَافِرٌ اسْتَتَرَ بِي، تَعَالَ فَاقْتُلْهُ، وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْنَ أَشْيَاءَ مِنْ شَأْنِكُمْ يَتَفَاقَمُ فِي أَنْفُسِكُمْ حَتَّى تَسْأَلُونَ بَيْنَكُمْ: هَلْ ذَكَرَ نَبِيُّكُمْ مِنْ هَذَا ذِكْرًا؟ وَحَتَّى تَزُولَ الْجِبَالُ عَنْ مَرَاتِبِهَا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَى ذَلِكَ الْقَبْضُ الْقَبْضُ " قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: أَيِ الْمَوْتُ
ترجمہ
…اور سورج کا صاف ہونا رسول اللہ ﷺ کے (نماز میں) بیٹھنے کے ساتھ موافق ہوا، پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور گواہی دی کہ وہ اس کا بندہ اور رسول ہے، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تو صرف ایک بشر اور رسول ہوں، میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہے تو مجھے بتاؤ، میں نے اپنے رب کے پیغامات اس طرح پہنچائے ہیں جس طرح انہیں پہنچانا چاہیے تھا، اور اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں تو مجھے بتاؤ؟“ تو صحابہ نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے، اور اپنی امت کی خیرخواہی کی، اور جو آپ پر (فرض) تھا وہ ادا کر دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”امابعد! کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سورج اور اس چاند کا گرہن، یا ستاروں کا اپنی جگہوں سے ہٹ جانا، زمین کے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے، حالانکہ انہوں نے جھوٹ کہا، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے جس سے وہ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، تاکہ دیکھے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے، مجھے اپنی اس جگہ میں، جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا، وہ سب کچھ دکھا دیا گیا جس سے تمہیں اپنی دنیا اور آخرت میں سابقہ پڑے گا، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس جھوٹے دعویدار (نبوت کے) پیدا نہ ہو لیں، ان میں سب سے آخری کانا دجال ہوگا، جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا وہ ابو تحییٰ کی آنکھ جیسی ہوگی - جو انصار کے ایک بزرگ تھے، جن کا گھر ان کے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان تھا - اور جب وہ نکلے گا تو دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے، تو جو اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا، اس کا پہلے کیا ہوا کوئی نیک عمل اسے فائدہ نہیں دے گا، اور جو اس کا انکار کرے اور اسے جھٹلائے، اسے پہلے کیے ہوئے کسی عمل کی سزا نہیں دی جائے گی، اور وہ حرم اور بیت المقدس کے سوا ساری زمین پر غالب آ جائے گا، اور مومنوں کو بیت المقدس میں سخت محاصرے میں محصور کر دیا جائے گا، اور انہیں شدید تنگی میں مبتلا کیا جائے گا۔“ اسود بن قیس کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”پھر ان کے درمیان عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صبح کریں گے، تو اللہ اسے اور اس کے لشکروں کو شکست دے گا، یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد اور درخت کی شاخ مومن کو پکار کر کہے گی: یہ کافر میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ کر اسے قتل کر دو، اور یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم اپنے معاملات میں سے ایسی چیزیں نہ دیکھ لو جو تمہارے دلوں میں بڑھتی جائیں، یہاں تک کہ تم آپس میں پوچھنے لگو: کیا تمہارے نبی ﷺ نے اس کا کوئی ذکر کیا تھا؟ اور یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں، پھر اس کے بعد موت (کا دور) ہوگا۔“ ابن مبارک کہتے ہیں: یعنی ”القبض“ سے مراد موت ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6767
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 189، حدیث 6797
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ، قَالَ: شَهِدْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ , فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قَيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ مِنَ الْأُفُقِ، فَاسْوَدَّتْ حَتَّى أَضَاءَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَاللهِ لَيُحَدِّثَنَّ لَهُ مِنْ أَمْرِ هَذِهِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ فِي أُمَّتِهِ حَدِيثًا، قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، فَاسْتَقْدَمَ فَصَلَّى، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَةً أُخْرَى مِثْلَهَا ثُمَّ جَلَسَ، فَوَافَقَ جُلُوسُهُ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ، فَسَلَّمَ وَانْصَرَفَ، فَحَمِدَ اللهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أُذَكِّرُكُمُ اللهَ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ رِسَالَةَ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَةِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي» , قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ بَلَّغْتَ رِسَالَةَ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ , وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وخُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ , وَزَوَالَ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا، وَلَكِنْ إِنَّمَا هِيَ آيَاتُ اللهِ , يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ , لِيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَإِنِّي وَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ، مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يِحْيَى - شَيْخٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ - فَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجْ فَسَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ فَلَيْسَ يَنْفَعُهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَقَاتَلَهُ فَلَيْسَ يُعَاقَبُ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا غَيْرَ الْحَرَمِ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يَسُوقُ النَّاسَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَيُحْصَرُونَ حَصْرًا شَدِيدًا» قَالَ: وَأَحْسِبُهُ أَنَّهُ قَالَ: " فَيُصْبِحُ فِيهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقْتُلُهُ وَجُنُودَهُ , حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ أَوْ جِذْمَ الْحَائِطِ لَيُنَادِي: يَا مُسْلِمُ , أَوْ يَا مُؤْمِنُ، هَذَا كَافِرٌ مُسْتَتِرٌ بِي , فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا عِظَامًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ: هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا؟ " ثُمَّ قَالَ: «عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ»
ترجمہ
…ہمیں اس (نماز) میں آپ ﷺ کی آواز سنائی نہ دیتی تھی، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہمیں اسی جیسی ایک اور رکعت پڑھائی، پھر بیٹھے، تو آپ ﷺ کا بیٹھنا سورج کے صاف ہونے کے ساتھ موافق ہوا، تو آپ ﷺ نے سلام پھیرا اور نماز ختم کی، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے تو مجھے بتاؤ، اور اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغام پہنچانے میں کچھ کوتاہی کی ہے تو مجھے بتاؤ۔“ صحابہ نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا، اور اپنی امت کی خیرخواہی کی، اور جو آپ پر (فرض) تھا وہ ادا کر دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”امابعد! کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سورج کے گرہن اور اس چاند کے گرہن، اور ستاروں کے اپنی جگہوں سے ہٹنے کی وجہ زمین کے کسی بڑے آدمی کی موت ہے، حالانکہ انہوں نے جھوٹ کہا، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے وہ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، تاکہ دیکھے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے، اور اللہ کی قسم، جب سے میں نماز کے لیے کھڑا ہوا ہوں، میں نے وہ سب کچھ دیکھ لیا ہے جس سے تمہیں اپنی دنیا اور آخرت کے معاملے میں سابقہ پڑے گا، اور اللہ کی قسم، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس جھوٹے دعویدار پیدا نہ ہو لیں، ان میں سب سے آخری کانا دجال ہوگا، جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا وہ ابو یحییٰ کی آنکھ جیسی ہوگی - جو انصار کے ایک بزرگ تھے، جن کا گھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے قریب تھا - تو جب وہ نکلے گا تو دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے، تو جو اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا، اسے اس کا پہلے کیا ہوا کوئی نیک عمل فائدہ نہیں دے گا، اور جو اس کا انکار کرے اور اس سے لڑے، اسے اس کے پہلے کیے ہوئے کسی عمل کی سزا نہیں دی جائے گی، اور وہ حرم اور بیت المقدس کے سوا ساری زمین پر غالب آ جائے گا، اور وہ لوگوں کو بیت المقدس کی طرف ہانک دے گا، تو انہیں سخت محاصرے میں محصور کر دیا جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”پھر ان کے درمیان عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صبح کریں گے، تو وہ اسے اور اس کے لشکروں کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ پتھر یا دیوار کی بنیاد پکار کر کہے گی: اے مسلمان، یا اے مومن! یہ کافر ہے، میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ کر اسے قتل کر دو، اور یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم بڑے بڑے واقعات نہ دیکھ لو جن کا معاملہ تمہارے دلوں میں بڑھتا جائے، پھر تم آپس میں پوچھنے لگو: کیا تمہارے نبی ﷺ نے تمہیں اس کا کوئی ذکر بتایا تھا؟“ پھر فرمایا: ”اس کے فوراً بعد موت (کا دور) ہوگا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6768
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 190، حدیث 6798
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي قَالَا:، ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِينَ مِنَ الْأُفُقِ، اسْوَدَّتْ حَتَّى أَضَاءَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَاللهِ، لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا فَذَهَبْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ بَأَزَزٍ - يَعْنِي مُمْتَلِئٌ - فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، فَاسْتَقْدَمَ، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَسَلَّمَ , ثُمَّ حَمِدَ اللهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ , وَأَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ رَسُولٌ، فَأَنْشَدْتُكُمْ بِاللهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ؟ وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي؟» فَقَامَ النَّاسُ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، ثُمَّ سَكَتُوا ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ , وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا، وَلَكِنْ إِنَّمَا هِيَ آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ لِيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَإِنِّي وَاللهِ قَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ أَقَمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمُ الدَّجَّالُ الْأَعْوَرُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي تِحْيَى - شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَئِذٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجْ فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحُ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ، وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يَحْصُرُ الْمُسْلِمِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَيُؤْزَلُونَ أَزْلًا شَدِيدًا، ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللهُ وَجُنُودَهُ , حَتَّى إِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَيَقُولُ: يَا مُؤْمِنُ , أَوْ يَا مُسْلِمُ، هَذَا كَافِرٌ تَعَالُ اقْتُلْهُ، وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا عِظَامًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، ثُمَّ تَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا؟ وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا، ثُمَّ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ " وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، وَأَشَارَ يَمِينًا وَشِمَالًا، ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ، فَذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعَهَا
ترجمہ
…پھر سورج کا صاف ہونا آپ ﷺ کے دوسری رکعت میں بیٹھنے کے ساتھ موافق ہوا، تو آپ ﷺ نے سلام پھیرا، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور وہ اللہ کا بندہ اور رسول ہے، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تو صرف ایک بشر اور رسول ہوں، میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہے تو مجھے بتاؤ، (اور بتاؤ کہ) میں نے اپنے رب کے پیغامات اس طرح پہنچائے جس طرح انہیں پہنچانا چاہیے تھا؟ اور اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں تو مجھے بتاؤ؟“ تو لوگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے، اور اپنی امت کی خیرخواہی کی، اور جو آپ پر (فرض) تھا وہ ادا کر دیا، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”امابعد! کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سورج کے گرہن اور اس چاند کے گرہن، اور ان ستاروں کے اپنی جگہوں سے ہٹنے کی وجہ زمین کے بڑے لوگوں میں سے کسی کی موت ہے، حالانکہ انہوں نے جھوٹ کہا، بلکہ یہ اللہ عزوجل کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں جن سے وہ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، تاکہ دیکھے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے، اور اللہ کی قسم، جب سے میں نماز کے لیے کھڑا ہوا ہوں، میں نے وہ سب کچھ دیکھ لیا ہے جس سے تمہیں اپنی دنیا اور آخرت کے معاملے میں سابقہ پڑے گا، اور اللہ کی قسم، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس جھوٹے دعویدار پیدا نہ ہو لیں، ان میں سب سے آخری کانا دجال ہوگا، جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا وہ ابو تحییٰ کی آنکھ جیسی ہوگی - جو انصار کے ایک بزرگ تھے، اس وقت ان کا گھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے قریب تھا - اور جب وہ نکلے گا تو دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے، تو جو اس پر ایمان لایا، اسے سچا مانا اور اس کی پیروی کی، اسے اس کا پہلے کیا ہوا نیک عمل فائدہ نہیں دے گا، اور جو اس کا انکار کرے اور اسے جھٹلائے، اسے اس کے پہلے کیے ہوئے کسی عمل کی سزا نہیں دی جائے گی، اور وہ حرم اور بیت المقدس کے سوا ساری زمین پر غالب آ جائے گا، اور وہ مسلمانوں کو بیت المقدس میں محصور کر دے گا، تو انہیں سخت تنگی میں مبتلا کیا جائے گا، پھر اللہ اسے اور اس کے لشکروں کو ہلاک کر دے گا، یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد اور درخت کی جڑ کہے گی: اے مومن، یا اے مسلمان! یہ کافر ہے، آ کر اسے قتل کر دو، اور یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم بڑے بڑے واقعات نہ دیکھ لو جن کا معاملہ تمہارے دلوں میں بڑھتا جائے، پھر تم آپس میں پوچھنے لگو: کیا تمہارے نبی ﷺ نے تمہیں اس کا کوئی ذکر بتایا تھا؟ اور یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں، پھر اس کے فوراً بعد موت (کا دور) ہوگا۔“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں بند کیں، اور دائیں بائیں اشارہ کیا۔ پھر میں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کا ایک خطبہ سنا، جس میں انہوں نے یہی حدیث بیان کی، اور انہوں نے ایک لفظ بھی آگے پیچھے نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6769
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 191، حدیث 6799