حدیث نمبر: 6769
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي قَالَا:، ثنا زُهَيْرٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْعَبْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ خُطْبَةً يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي عَيْنِ النَّاظِرِينَ مِنَ الْأُفُقِ، اسْوَدَّتْ حَتَّى أَضَاءَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَاللهِ، لَيُحْدِثَنَّ شَأْنُ هَذِهِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُمَّتِهِ حَدَثًا فَذَهَبْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِذَا هُوَ بَأَزَزٍ - يَعْنِي مُمْتَلِئٌ - فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، فَاسْتَقْدَمَ، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، فَوَافَقَ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ جُلُوسُهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَسَلَّمَ , ثُمَّ حَمِدَ اللهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ , وَأَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ رَسُولٌ، فَأَنْشَدْتُكُمْ بِاللهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي، فَبَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي كَمَا يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُبَلَّغَ؟ وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ رِسَالَاتِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي؟» فَقَامَ النَّاسُ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، ثُمَّ سَكَتُوا ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ , فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ , وَزَوَالَ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا، وَلَكِنْ إِنَّمَا هِيَ آيَاتٌ مِنْ آيَاتِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ لِيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَإِنِّي وَاللهِ قَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ أَقَمْتُ أُصَلِّي مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمُ الدَّجَّالُ الْأَعْوَرُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي تِحْيَى - شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حِينَئِذٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ - وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجْ فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَاتَّبَعَهُ لَمْ يَنْفَعْهُ صَالِحُ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَكَذَّبَهُ لَمْ يُعَاقَبْ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا إِلَّا الْحَرَمَ، وَبَيْتَ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يَحْصُرُ الْمُسْلِمِينَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَيُؤْزَلُونَ أَزْلًا شَدِيدًا، ثُمَّ يُهْلِكُهُ اللهُ وَجُنُودَهُ , حَتَّى إِنَّ جِذْمَ الْحَائِطِ وَأَصْلَ الشَّجَرَةِ لَيَقُولُ: يَا مُؤْمِنُ , أَوْ يَا مُسْلِمُ، هَذَا كَافِرٌ تَعَالُ اقْتُلْهُ، وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا عِظَامًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، ثُمَّ تَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا؟ وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا، ثُمَّ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ " وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ، وَأَشَارَ يَمِينًا وَشِمَالًا، ثُمَّ شَهِدْتُ خُطْبَةً لِسَمُرَةَ، فَذَكَرَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثَ فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً وَلَا أَخَّرَهَا عَنْ مَوْضِعَهَا
ترجمہ

…پھر سورج کا صاف ہونا آپ ﷺ کے دوسری رکعت میں بیٹھنے کے ساتھ موافق ہوا، تو آپ ﷺ نے سلام پھیرا، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، اور وہ اللہ کا بندہ اور رسول ہے، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تو صرف ایک بشر اور رسول ہوں، میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچانے میں کوئی کوتاہی کی ہے تو مجھے بتاؤ، (اور بتاؤ کہ) میں نے اپنے رب کے پیغامات اس طرح پہنچائے جس طرح انہیں پہنچانا چاہیے تھا؟ اور اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں تو مجھے بتاؤ؟“ تو لوگ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے، اور اپنی امت کی خیرخواہی کی، اور جو آپ پر (فرض) تھا وہ ادا کر دیا، پھر وہ خاموش ہو گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”امابعد! کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سورج کے گرہن اور اس چاند کے گرہن، اور ان ستاروں کے اپنی جگہوں سے ہٹنے کی وجہ زمین کے بڑے لوگوں میں سے کسی کی موت ہے، حالانکہ انہوں نے جھوٹ کہا، بلکہ یہ اللہ عزوجل کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں جن سے وہ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، تاکہ دیکھے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے، اور اللہ کی قسم، جب سے میں نماز کے لیے کھڑا ہوا ہوں، میں نے وہ سب کچھ دیکھ لیا ہے جس سے تمہیں اپنی دنیا اور آخرت کے معاملے میں سابقہ پڑے گا، اور اللہ کی قسم، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس جھوٹے دعویدار پیدا نہ ہو لیں، ان میں سب سے آخری کانا دجال ہوگا، جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا وہ ابو تحییٰ کی آنکھ جیسی ہوگی - جو انصار کے ایک بزرگ تھے، اس وقت ان کا گھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے قریب تھا - اور جب وہ نکلے گا تو دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے، تو جو اس پر ایمان لایا، اسے سچا مانا اور اس کی پیروی کی، اسے اس کا پہلے کیا ہوا نیک عمل فائدہ نہیں دے گا، اور جو اس کا انکار کرے اور اسے جھٹلائے، اسے اس کے پہلے کیے ہوئے کسی عمل کی سزا نہیں دی جائے گی، اور وہ حرم اور بیت المقدس کے سوا ساری زمین پر غالب آ جائے گا، اور وہ مسلمانوں کو بیت المقدس میں محصور کر دے گا، تو انہیں سخت تنگی میں مبتلا کیا جائے گا، پھر اللہ اسے اور اس کے لشکروں کو ہلاک کر دے گا، یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد اور درخت کی جڑ کہے گی: اے مومن، یا اے مسلمان! یہ کافر ہے، آ کر اسے قتل کر دو، اور یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم بڑے بڑے واقعات نہ دیکھ لو جن کا معاملہ تمہارے دلوں میں بڑھتا جائے، پھر تم آپس میں پوچھنے لگو: کیا تمہارے نبی ﷺ نے تمہیں اس کا کوئی ذکر بتایا تھا؟ اور یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہوں سے ہٹ جائیں، پھر اس کے فوراً بعد موت (کا دور) ہوگا۔“ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں بند کیں، اور دائیں بائیں اشارہ کیا۔ پھر میں نے سمرہ رضی اللہ عنہ کا ایک خطبہ سنا، جس میں انہوں نے یہی حدیث بیان کی، اور انہوں نے ایک لفظ بھی آگے پیچھے نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6769
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 191، حدیث 6799