حدیث نمبر: 6768
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عِبَادٍ، قَالَ: شَهِدْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضَيْنِ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ , فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قَيْدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ مِنَ الْأُفُقِ، فَاسْوَدَّتْ حَتَّى أَضَاءَتْ كَأَنَّهَا تَنُّومَةٌ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَاللهِ لَيُحَدِّثَنَّ لَهُ مِنْ أَمْرِ هَذِهِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ فِي أُمَّتِهِ حَدِيثًا، قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ، فَاسْتَقْدَمَ فَصَلَّى، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ رَكَعَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا رَكَعَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا سَجَدَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ، مَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَةً أُخْرَى مِثْلَهَا ثُمَّ جَلَسَ، فَوَافَقَ جُلُوسُهُ تَجَلِّيَ الشَّمْسِ، فَسَلَّمَ وَانْصَرَفَ، فَحَمِدَ اللهَ , وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أُذَكِّرُكُمُ اللهَ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَدْ بَلَّغْتُ رِسَالَةَ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي، وَإِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ مِنْ تَبْلِيغِ رِسَالَةِ رَبِّي لَمَا أَخْبَرْتُمُونِي» , قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ بَلَّغْتَ رِسَالَةَ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ , وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ وخُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ , وَزَوَالَ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُمْ قَدْ كَذَبُوا، وَلَكِنْ إِنَّمَا هِيَ آيَاتُ اللهِ , يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ , لِيَنْظُرَ مَنْ يُحْدِثُ لَهُ مِنْهُمْ تَوْبَةً، وَإِنِّي وَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مَا أَنْتُمْ لَاقُونَ مِنْ أَمْرِ دُنْيَاكُمْ وَآخِرَتِكُمْ، مُنْذُ قُمْتُ أُصَلِّي، وَإِنَّهُ وَاللهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا آخِرُهُمُ الْأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي يِحْيَى - شَيْخٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ - فَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجْ فَسَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللهُ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ فَلَيْسَ يَنْفَعُهُ صَالِحٌ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَمَنْ كَفَرَ بِهِ وَقَاتَلَهُ فَلَيْسَ يُعَاقَبُ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ سَلَفَ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الْأَرْضِ كُلِّهَا غَيْرَ الْحَرَمِ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَإِنَّهُ يَسُوقُ النَّاسَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَيُحْصَرُونَ حَصْرًا شَدِيدًا» قَالَ: وَأَحْسِبُهُ أَنَّهُ قَالَ: " فَيُصْبِحُ فِيهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَيَقْتُلُهُ وَجُنُودَهُ , حَتَّى إِنَّ الْحَجَرَ أَوْ جِذْمَ الْحَائِطِ لَيُنَادِي: يَا مُسْلِمُ , أَوْ يَا مُؤْمِنُ، هَذَا كَافِرٌ مُسْتَتِرٌ بِي , فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا عِظَامًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ: هَلْ كَانَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا؟ " ثُمَّ قَالَ: «عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ»
ترجمہ

…ہمیں اس (نماز) میں آپ ﷺ کی آواز سنائی نہ دیتی تھی، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہمیں اسی جیسی ایک اور رکعت پڑھائی، پھر بیٹھے، تو آپ ﷺ کا بیٹھنا سورج کے صاف ہونے کے ساتھ موافق ہوا، تو آپ ﷺ نے سلام پھیرا اور نماز ختم کی، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”اے لوگو! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا ہے تو مجھے بتاؤ، اور اگر تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے رب کے پیغام پہنچانے میں کچھ کوتاہی کی ہے تو مجھے بتاؤ۔“ صحابہ نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا، اور اپنی امت کی خیرخواہی کی، اور جو آپ پر (فرض) تھا وہ ادا کر دیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”امابعد! کچھ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اس سورج کے گرہن اور اس چاند کے گرہن، اور ستاروں کے اپنی جگہوں سے ہٹنے کی وجہ زمین کے کسی بڑے آدمی کی موت ہے، حالانکہ انہوں نے جھوٹ کہا، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جن سے وہ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، تاکہ دیکھے کہ ان میں سے کون توبہ کرتا ہے، اور اللہ کی قسم، جب سے میں نماز کے لیے کھڑا ہوا ہوں، میں نے وہ سب کچھ دیکھ لیا ہے جس سے تمہیں اپنی دنیا اور آخرت کے معاملے میں سابقہ پڑے گا، اور اللہ کی قسم، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس جھوٹے دعویدار پیدا نہ ہو لیں، ان میں سب سے آخری کانا دجال ہوگا، جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی، گویا وہ ابو یحییٰ کی آنکھ جیسی ہوگی - جو انصار کے ایک بزرگ تھے، جن کا گھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے قریب تھا - تو جب وہ نکلے گا تو دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ ہے، تو جو اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا، اسے اس کا پہلے کیا ہوا کوئی نیک عمل فائدہ نہیں دے گا، اور جو اس کا انکار کرے اور اس سے لڑے، اسے اس کے پہلے کیے ہوئے کسی عمل کی سزا نہیں دی جائے گی، اور وہ حرم اور بیت المقدس کے سوا ساری زمین پر غالب آ جائے گا، اور وہ لوگوں کو بیت المقدس کی طرف ہانک دے گا، تو انہیں سخت محاصرے میں محصور کر دیا جائے گا۔“ راوی کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا: ”پھر ان کے درمیان عیسیٰ بن مریم علیہ السلام صبح کریں گے، تو وہ اسے اور اس کے لشکروں کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ پتھر یا دیوار کی بنیاد پکار کر کہے گی: اے مسلمان، یا اے مومن! یہ کافر ہے، میرے پیچھے چھپا ہوا ہے، آ کر اسے قتل کر دو، اور یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک تم بڑے بڑے واقعات نہ دیکھ لو جن کا معاملہ تمہارے دلوں میں بڑھتا جائے، پھر تم آپس میں پوچھنے لگو: کیا تمہارے نبی ﷺ نے تمہیں اس کا کوئی ذکر بتایا تھا؟“ پھر فرمایا: ”اس کے فوراً بعد موت (کا دور) ہوگا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6768
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 190، حدیث 6798