کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: حصین بن ابی حر کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، قَالَا: ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ»
ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا سب سے بہتر علاج پچھنے لگوانا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّامًا، فَحَجَمَهُ بِقَرْنٍ وَشَرْطَةِ شَفْرَةٍ، فَرَآهُ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ لَحْمَكَ؟ قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا هَذَا الْحَجْمُ، وَهُوَ خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک پچھنے لگانے والے کو بلایا، تو اس نے سینگ اور چھری کی نوک سے آپ ﷺ کو پچھنے لگائے، تو بنو فزارہ کے ایک دیہاتی نے آپ ﷺ کو دیکھا اور کہا: یا رسول اللہ! آپ اسے اپنا گوشت کیوں کاٹنے دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ پچھنے کیا ہیں؟ یہ تمہارے علاج میں سب سے بہتر ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا حَجَّامًا، وَأَمَرَهُ أَنْ يَحْجُمَهُ، فَأَخْرَجَ مَحَاجِمَ لَهُ مِنْ قُرُونٍ، فَأَلْزَمَهُنَّ إِيَّاهُ، ثُمَّ شَرَطَهُ بِطَرَفِ شَفْرَةٍ، وَصَبَّ الدَّمَ فِي إِنَاءٍ عِنْدَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ عَلَامَ تُمَكِّنُ هَذَا مِنْ جِلْدِكَ يَقْطَعُهُ؟ فَقَالَ: «هَذَا الْحَجْمُ» قَالَ: «هُوَ خَيْرُ مَا يَتَدَاوَى بِهِ النَّاسُ»
ترجمہ
…پھر آپ ﷺ کو چھری کی نوک سے چیرا لگایا گیا، اور خون ایک برتن میں ڈالا گیا جو آپ ﷺ کے پاس تھا، اتنے میں بنو فزارہ کا ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: یہ کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ اسے اپنی جلد کاٹنے کا موقع کیوں دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پچھنا لگانا ہے۔“ فرمایا: ”یہ وہ چیز ہے جس سے لوگ سب سے بہتر علاج کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: سَأَلَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَطَعَ عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ وَهُوَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَقُولُ فِي الضِّبَابِ؟ قَالَ: «مُسِخَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ اللهُ أَعْلَمُ فِي أَيِّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ»
ترجمہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا جبکہ آپ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو اس نے آپ ﷺ کا خطبہ منقطع کر دیا، آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے جو آپ ﷺ کی دائیں جانب تھا، اس نے کہا: یا رسول اللہ! آپ گوہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک امت کو مسخ کیا گیا تھا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کن جانوروں میں مسخ ہوئے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: سَأَلَ أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَقُولُ فِي الضِّبَابِ؟ فَقَالَ: «مُسِخَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَاللهُ أَعْلَمُ , أَيُّ الدَّوَابِّ مُسِخَتْ»
ترجمہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: آپ گوہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک امت کو مسخ کیا گیا تھا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان میں سے کون سے جانوروں میں مسخ ہوئے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُسَاوِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔