❮
❯
حدیث نمبر: 6756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي حُصَيْنُ بْنُ أَبِي الْحُرِّ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا حَجَّامًا، وَأَمَرَهُ أَنْ يَحْجُمَهُ، فَأَخْرَجَ مَحَاجِمَ لَهُ مِنْ قُرُونٍ، فَأَلْزَمَهُنَّ إِيَّاهُ، ثُمَّ شَرَطَهُ بِطَرَفِ شَفْرَةٍ، وَصَبَّ الدَّمَ فِي إِنَاءٍ عِنْدَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ عَلَامَ تُمَكِّنُ هَذَا مِنْ جِلْدِكَ يَقْطَعُهُ؟ فَقَالَ: «هَذَا الْحَجْمُ» قَالَ: «هُوَ خَيْرُ مَا يَتَدَاوَى بِهِ النَّاسُ»
ترجمہ

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، آپ ﷺ نے ایک پچھنا لگانے والے کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ وہ آپ ﷺ کو پچھنا لگائے، تو اس نے اپنے سینگ کے بنے ہوئے پچھنے نکالے اور انہیں آپ ﷺ کے ساتھ لگایا، پھر آپ ﷺ کو چھری کی نوک سے چیرا لگایا گیا، اور خون ایک برتن میں ڈالا گیا جو آپ ﷺ کے پاس تھا، اتنے میں بنو فزارہ کا ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: یہ کیا ہے یا رسول اللہ؟ آپ اسے اپنی جلد کاٹنے کا موقع کیوں دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پچھنا لگانا ہے۔“ فرمایا: ”یہ وہ چیز ہے جس سے لوگ سب سے بہتر علاج کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6756
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 186، حدیث 6786