کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: علی بن رباح کی سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا سُرَاقَةُ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ , وَأَهْلِ النَّارِ؟» فَقَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَمَّا أَهْلُ النَّارِ , فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ، وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَالضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ»
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے سراقہ! کیا میں تمہیں جنتیوں اور جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہنمی تو ہر وہ اکھڑ مزاج، موٹا تازہ اور متکبر شخص ہے، اور جنتی وہ کمزور اور مغلوب لوگ ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْعُرُوقِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو کسی کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو اپنے شوہر کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیتا۔“
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوَقِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ بْنِ رَبَاحٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ، ابْنَتُكَ مَرْدُودَةٌ إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ»
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے افضل صدقے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ تمہاری بیٹی جو تمہارے پاس لوٹ آئی ہے، اور تمہارے سوا اس کا کوئی کمانے والا نہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَابِهْرَامَ الْأَيْذَجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شَاهِينُ بْنُ حَيَّانَ، أَخُو فَهْدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَعْظَمِ الصَّدَقَةِ، إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الصَّدَقَةِ أَجْرًا ابْنَتُكَ , مَرْدُودَةٌ إِلَيْكَ، لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ»
ترجمہ
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے بڑے اجر والے صدقے کے بارے میں نہ بتاؤں؟ سب سے بڑے اجر والے صدقوں میں سے ایک تمہاری بیٹی ہے جو تمہارے پاس لوٹ آئی ہے، اور تمہارے سوا اس کا کوئی کمانے والا نہیں۔“