حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»
ترجمہ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یمن فتح ہوگا، تو کچھ لوگ اپنے مویشیوں کو ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔ پھر شام فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»
ترجمہ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یمن فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ الْأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ، وَمَنْ أَطَاعَهُمْ وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ , ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»
ترجمہ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یمن فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے، پھر عراق فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے، پھر شام فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»
ترجمہ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یمن فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے، پھر عراق فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے، پھر شام فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُزَاعَى بْنِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَجِيءُ رِجَالٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَلَكِنَّ الْمَدِينَةَ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَجِيءُ رِجَالٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَجِيءُ رِجَالٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ» زَادَ أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ عُرْوَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ
ترجمہ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یمن فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، لیکن مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے، پھر عراق فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے، پھر شام فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔“
احمد بن داود مکی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: عروہ کہتے ہیں: پھر میں سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے ان کی وفات کے وقت ملا، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔
احمد بن داود مکی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: عروہ کہتے ہیں: پھر میں سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے ان کی وفات کے وقت ملا، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»
ترجمہ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یمن فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ»
ترجمہ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”یمن فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ، رَجُلٌ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُحَدِّثُ نَاسًا عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا، نَقُصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ» قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
ترجمہ
ازد شنوءہ قبیلے کا ایک شخص، جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھا، مسجد کے دروازے پر کچھ لوگوں سے بیان کر رہا تھا، وہ کہہ رہا تھا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے ایسا کتا پالا جو اس کے لیے نہ کھیتی کے کام آئے اور نہ مویشیوں کی رکھوالی کے، تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے۔“ کسی نے پوچھا: کیا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، کعبے کے رب کی قسم۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقُصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ» ، قَالَ السَّائِبُ: أَيْ سُفْيَانَ، أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ
ترجمہ
سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جس نے ایسا کتا پالا جو اس کے لیے نہ کھیتی کے کام آئے اور نہ مویشیوں کی رکھوالی کے، تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے۔“ سیدنا سائب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے سفیان! کیا تم نے یہ رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، کعبے کے رب کی قسم۔