المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سفيان بن أبي زهير الأزدي الشنوي باب: سیدنا سفیان بن ابی زہیر ازدی شنوی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خُزَاعَى بْنِ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُفْتَحُ الْيَمَنُ، فَيَجِيءُ رِجَالٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَلَكِنَّ الْمَدِينَةَ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الْعِرَاقُ، فَيَجِيءُ رِجَالٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، ثُمَّ تُفْتَحُ الشَّامُ، فَيَجِيءُ رِجَالٌ يَبُسُّونَ، فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهَالِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ» زَادَ أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ عُرْوَةُ: ثُمَّ لَقِيتُ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَأَخْبَرَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِسیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یمن فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، لیکن مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے، پھر عراق فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے، پھر شام فتح ہوگا، تو کچھ لوگ ہانکتے ہوئے آئیں گے اور اپنے گھر والوں اور ان کے متبعین کو ساتھ لے جائیں گے، اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہے اگر وہ جانتے ہوتے۔“
احمد بن داود مکی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: عروہ کہتے ہیں: پھر میں سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے ان کی وفات کے وقت ملا، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔