کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عمرو بن ابی قرہ کی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا عُمَرَ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، وَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي الْغَضَبِ، فَيَنْطَلِقُ نَاسٌ مِمَّنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ حُذَيْفَةَ، فَيَأْتُونَ سَلْمَانَ، فَيَذْكُرُونَ لَهُ قَوْلَ حُذَيْفَةَ، فَيَقُولُ سَلْمَانُ: حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، فَيَرْجِعُونَ إِلَى حُذَيْفَةَ، فَيَقُولُونَ: قَدْ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِسَلْمَانَ، فَمَا صَدَّقَكَ وَلَا كَذَّبَكَ، فَأَتَى حُذَيْفَةُ سَلْمَانَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَدِّقَنِي بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَلْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ، فَيَقُولُ فِي الْغَضَبِ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَيَمْرَضُ فَيَقُولُ فِي الْمَرَضِ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، أَمَا تَنْتَهِي حَتَّى تُورِثَ رِجَالًا حُبَّ رِجَالٍ، وَرِجَالًا بُغْضَ رِجَالٍ حَتَّى تُوقِعَ اخْتِلَافًا وَفُرْقَةً، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً، لَعَنْتُهُ لَعْنَةً مِنْ غَضَبِي، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَاَجْعَلُهَا عَلَيْهِ صَلَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ فِيكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ترجمہ
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے (سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے) فرمایا: کیا تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک لوگوں میں سے کچھ کو ایک دوسرے کی محبت اور کچھ کو ایک دوسرے کی دشمنی میں نہ ڈال دو، یہاں تک کہ اختلاف اور تفرقہ پیدا کر دو؟ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: ”میری امت میں سے جس شخص کو میں نے کوئی گالی دی ہو، یا غصے میں کوئی لعنت کی ہو، تو میں بھی آدم کی اولاد میں سے ایک ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے دوسروں کو آتا ہے، اور مجھے تو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، پس اے اللہ! میری اس لعنت یا گالی کو قیامت کے دن اس کے لیے رحمت بنا دے۔“ اللہ کی قسم! تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہارے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجوں گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّامِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ قَالَ: قَالَ سَلْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يُحَدِّثُ بِأَشْيَاءَ يَقُولُهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَضَبِهِ لِأَقْوَامٍ، فَقُلْتُ: يَا حُذَيْفَةُ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ فِيكَ إِلَى عُمَرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ أُمَّتِي لَعَنْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ فِي غَيْرِ كُنْهِهِ فَاَجْعَلُهَا عَلَيْهِ صَلَاةً»
ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کچھ باتیں بیان کر رہے تھے جو رسول اللہ ﷺ نے غصے کی حالت میں کچھ لوگوں کے بارے میں فرمائی تھیں، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے حذیفہ! تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہارے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجوں گا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”میں آدم کی اولاد میں سے ہوں، پس میری امت میں سے جس بندے پر میں نے لعنت کی ہو یا اسے گالی دی ہو حالانکہ وہ اس کا اہل نہیں تھا، تو اے اللہ! اسے اس کے لیے رحمت بنا دے۔“