حدیث نمبر: 6130
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ الْكُوفِيُّ، ثنا مُخَوَّلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: احْتَطَبْتُ حَطَبًا، وَصَنَعَتُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَسِيرًا، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قُلْتُ: صَدَقَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا» وَلَمْ يَأْكُلْ، قُلْتُ: هَذِهِ مِنْ عَلَامَتِهِ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَمْكُثَ، ثُمَّ قُلْتُ لِمَوْلَاتِي: هَبِي لِي يَوْمًا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا، فَبِعْتُهُ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَصَنَعْتُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» قُلْتُ: هَدِيَّةٌ، فَوَضَعَ يَدَهُ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «خُذُوا بِسْمِ اللهِ» ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» ، فَحَدَّثْتُ عَنِ الرَّجُلِ، ثُمَّ قُلْتُ: أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ»
ترجمہ

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے لکڑیاں جمع کیں اور کھانا تیار کیا، پھر وہ لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، وہ تھوڑا سا تھا، میں نے اسے آپ ﷺ کے سامنے رکھا تو آپ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: صدقہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کھاؤ“ اور خود نہیں کھایا۔ میں نے (دل میں) کہا: یہ آپ کی ایک نشانی ہے۔ پھر میں جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرا رہا، پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا: مجھے ایک دن کی چھٹی عطا کر دو؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ میں گیا اور لکڑیاں جمع کیں اور انہیں پہلے سے زیادہ قیمت میں بیچا، اور کھانا تیار کیا، پھر وہ لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ اپنے صحابہ کے درمیان تھے، میں نے اسے آپ کے سامنے رکھا تو آپ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہدیہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ (کھانے کی طرف) بڑھایا، اور اپنے صحابہ سے فرمایا: ”بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ تو میں نے اس شخص کے بارے میں بتایا (جس نے مجھے آپ کی نشانیاں بتائی تھیں)، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا وہ جنت میں داخل ہوگا؟ کیونکہ اس نے مجھے بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں صرف مسلمان جان ہی داخل ہوگی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6130
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 259، حدیث 6155