المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو قرة الكندي، عن سلمان رضي الله عنه باب: ابوقرہ کندی کی سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّلَّالُ الْكُوفِيُّ، ثنا مُخَوَّلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: احْتَطَبْتُ حَطَبًا، وَصَنَعَتُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يَسِيرًا، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قُلْتُ: صَدَقَةٌ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «كُلُوا» وَلَمْ يَأْكُلْ، قُلْتُ: هَذِهِ مِنْ عَلَامَتِهِ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ أَمْكُثَ، ثُمَّ قُلْتُ لِمَوْلَاتِي: هَبِي لِي يَوْمًا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا، فَبِعْتُهُ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَصَنَعْتُ طَعَامًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ؟» قُلْتُ: هَدِيَّةٌ، فَوَضَعَ يَدَهُ، وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «خُذُوا بِسْمِ اللهِ» ، فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «وَمَا ذَاكَ؟» ، فَحَدَّثْتُ عَنِ الرَّجُلِ، ثُمَّ قُلْتُ: أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ؟ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ»سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے لکڑیاں جمع کیں اور کھانا تیار کیا، پھر وہ لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، وہ تھوڑا سا تھا، میں نے اسے آپ ﷺ کے سامنے رکھا تو آپ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: صدقہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”کھاؤ“ اور خود نہیں کھایا۔ میں نے (دل میں) کہا: یہ آپ کی ایک نشانی ہے۔ پھر میں جتنا اللہ نے چاہا ٹھہرا رہا، پھر میں نے اپنی مالکن سے کہا: مجھے ایک دن کی چھٹی عطا کر دو؟ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ میں گیا اور لکڑیاں جمع کیں اور انہیں پہلے سے زیادہ قیمت میں بیچا، اور کھانا تیار کیا، پھر وہ لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ اپنے صحابہ کے درمیان تھے، میں نے اسے آپ کے سامنے رکھا تو آپ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہدیہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ (کھانے کی طرف) بڑھایا، اور اپنے صحابہ سے فرمایا: ”بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔“ میں نے عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ تو میں نے اس شخص کے بارے میں بتایا (جس نے مجھے آپ کی نشانیاں بتائی تھیں)، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا وہ جنت میں داخل ہوگا؟ کیونکہ اس نے مجھے بتایا تھا کہ آپ نبی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں صرف مسلمان جان ہی داخل ہوگی۔“