❮
❯
حدیث نمبر: 6131
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا عُمَرَ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ، قَالَ: كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ، وَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي الْغَضَبِ، فَيَنْطَلِقُ نَاسٌ مِمَّنْ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ حُذَيْفَةَ، فَيَأْتُونَ سَلْمَانَ، فَيَذْكُرُونَ لَهُ قَوْلَ حُذَيْفَةَ، فَيَقُولُ سَلْمَانُ: حُذَيْفَةُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُ، فَيَرْجِعُونَ إِلَى حُذَيْفَةَ، فَيَقُولُونَ: قَدْ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لِسَلْمَانَ، فَمَا صَدَّقَكَ وَلَا كَذَّبَكَ، فَأَتَى حُذَيْفَةُ سَلْمَانَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تُصَدِّقَنِي بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ سَلْمَانُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ، فَيَقُولُ فِي الْغَضَبِ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَيَمْرَضُ فَيَقُولُ فِي الْمَرَضِ لِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، أَمَا تَنْتَهِي حَتَّى تُورِثَ رِجَالًا حُبَّ رِجَالٍ، وَرِجَالًا بُغْضَ رِجَالٍ حَتَّى تُوقِعَ اخْتِلَافًا وَفُرْقَةً، وَلَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً، لَعَنْتُهُ لَعْنَةً مِنْ غَضَبِي، فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ، وَإِنَّمَا بَعَثَنِي اللهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، فَاَجْعَلُهَا عَلَيْهِ صَلَاةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ، وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ أَوْ لَأَكْتُبَنَّ فِيكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
ترجمہ

عمرو بن ابی قرہ بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ ایسی باتیں ذکر کیا کرتے تھے جو رسول اللہ ﷺ نے غصے کی حالت میں اپنے بعض صحابہ کے بارے میں فرمائی تھیں۔ جو لوگ یہ باتیں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنتے ان میں سے کچھ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاتے اور ان سے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بات ذکر کرتے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے: حذیفہ اپنی بات کو بہتر جانتے ہیں۔ پھر وہ لوگ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ کر کہتے: ہم نے یہ بات سلمان سے ذکر کی تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب۔ چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جبکہ وہ اپنے ایک خیمے میں تھے، اور کہا: اے سلمان! جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اس میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کیا چیز روکتی ہے؟ سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ غصے میں آتے تو غصے کی حالت میں اپنے بعض صحابہ کے بارے میں کچھ فرما دیتے، اور بیمار ہوتے تو بیماری کی حالت میں اپنے بعض صحابہ کے بارے میں کچھ فرما دیتے۔ کیا تم اس وقت تک باز نہیں آؤ گے جب تک کچھ لوگوں کے دلوں میں کچھ لوگوں کی محبت اور کچھ لوگوں کے دلوں میں کچھ لوگوں کا بغض نہ ڈال دو، یہاں تک کہ اختلاف اور تفرقہ پیدا کر دو؟ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا: ”میری امت میں سے جس شخص کو میں نے اپنے غصے میں کوئی گالی دی ہو یا کوئی لعنت کی ہو، تو میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے، اور اللہ نے تو مجھے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے، لہٰذا میں اسے قیامت کے دن اس کے لیے رحمت بنا دوں۔“ اللہ کی قسم! تم باز آ جاؤ ورنہ میں تمہارے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجوں گا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6131
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 259، حدیث 6156