کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: مسعودی کی ابوحازم سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ جَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ قَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، وَلَيْسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَهُنَا، فَأُؤَذِّنُ وَأُقِيمُ، وَتُصَلِّي أَنْتَ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، وَاسْتَفْتَحَ أَبُو بَكْرٍ الصَّلَاةَ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَقِيَّةِ ذَلِكَ، فَصَفَّحَ النَّاسُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ لِيَتَنَحَّى، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، فَلَمَّا تَنَحَّى، تَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ كَمَا أَمَرْتُكَ» ، قَالَ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَمَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے دو آدمیوں کے درمیان کوئی معاملہ پیش آ گیا، تو نبی کریم ﷺ نماز کے وقت ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے روانہ ہوئے۔ جب نماز کا وقت آ گیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے ابوبکر! نماز کا وقت ہو گیا ہے، اور نبی کریم ﷺ یہاں موجود نہیں، کیا میں اذان اور اقامت کہوں اور آپ نماز پڑھائیں؟ انہوں نے فرمایا: جیسے تم چاہو۔ چنانچہ انہوں نے اذان اور اقامت کہی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی۔ اسی اثناء میں نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے تو لوگ تالی بجانے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک طرف ہٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ثابت قدم رہو۔ جب وہ ہٹ ہی گئے تو نبی کریم ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ اپنی نماز مکمل کر چکے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو تو تمہیں کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5954
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 193، حدیث 5976
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا، أَفَلَا نَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا تَقُومُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الْجَائِي يَجِيءُ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يَرْجِعَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْكَ شَيْئًا، فَأَمَرَ غُلَامًا لِلْأَنْصَارِ، فَأَخَذَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، فَجَعَلَ لَهُ هَذَا الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهِ حَنَّتِ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ إِلَيْهَا، فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا حَتَّى سَكَتَتْ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ ایک لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر (خطبہ دیا) کرتے تھے، جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے، کیا ہم آپ کے لیے ایک منبر نہ بنا دیں جس پر آپ کھڑے ہوں؟ کیونکہ آنے والا آتا ہے اور اسے یہ گراں گزرتا ہے کہ وہ آپ کی کوئی بات سنے بغیر واپس لوٹ جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انصار کے ایک غلام کو حکم دیا تو اس نے جنگل کی جھاؤ کی لکڑی لے کر آپ کے لیے یہ منبر بنایا۔ جب آپ ﷺ اس پر بیٹھے تو وہ لکڑی جس کے پاس آپ کھڑے ہوا کرتے تھے (آپ کی جدائی میں) رونے لگی، تو آپ ﷺ تشریف لائے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5955
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 194، حدیث 5977
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى الْبَزَّازُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تالی بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے اور تسبیح مردوں کے لیے ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5956
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 194، حدیث 5978