❮
❯
حدیث نمبر: 5954
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ شَيْءٌ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ فِي وَقْتِ صَلَاةٍ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ جَاءَ بِلَالٌ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ قَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، وَلَيْسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَهُنَا، فَأُؤَذِّنُ وَأُقِيمُ، وَتُصَلِّي أَنْتَ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ، فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، وَاسْتَفْتَحَ أَبُو بَكْرٍ الصَّلَاةَ، وَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَقِيَّةِ ذَلِكَ، فَصَفَّحَ النَّاسُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ لِيَتَنَحَّى، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ مَكَانَكَ، فَلَمَّا تَنَحَّى، تَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ كَمَا أَمَرْتُكَ» ، قَالَ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَمَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے دو آدمیوں کے درمیان کوئی معاملہ پیش آ گیا، تو نبی کریم ﷺ نماز کے وقت ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے روانہ ہوئے۔ جب نماز کا وقت آ گیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے ابوبکر! نماز کا وقت ہو گیا ہے، اور نبی کریم ﷺ یہاں موجود نہیں، کیا میں اذان اور اقامت کہوں اور آپ نماز پڑھائیں؟ انہوں نے فرمایا: جیسے تم چاہو۔ چنانچہ انہوں نے اذان اور اقامت کہی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کر دی۔ اسی اثناء میں نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے تو لوگ تالی بجانے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک طرف ہٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ثابت قدم رہو۔ جب وہ ہٹ ہی گئے تو نبی کریم ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ اپنی نماز مکمل کر چکے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو تو تمہیں کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5954
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 193، حدیث 5976