حدیث نمبر: 5955
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا، أَفَلَا نَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا تَقُومُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الْجَائِي يَجِيءُ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يَرْجِعَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْكَ شَيْئًا، فَأَمَرَ غُلَامًا لِلْأَنْصَارِ، فَأَخَذَ مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، فَجَعَلَ لَهُ هَذَا الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا جَلَسَ عَلَيْهِ حَنَّتِ الْخَشَبَةُ الَّتِي كَانَ يَقُومُ إِلَيْهَا، فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا حَتَّى سَكَتَتْ "
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ ایک لکڑی کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے، جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگوں کی تعداد بڑھ گئی ہے، کیا ہم آپ کے لیے ایک منبر نہ بنا دیں جس پر آپ کھڑے ہوں؟ کیونکہ آنے والا آتا ہے اور اسے یہ گراں گزرتا ہے کہ وہ آپ کی کوئی بات سنے بغیر واپس لوٹ جائے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انصار کے ایک غلام کو حکم دیا تو اس نے جنگل کی جھاؤ کی لکڑی لے کر آپ کے لیے یہ منبر بنایا۔ جب آپ ﷺ اس پر بیٹھے تو وہ لکڑی جس کے پاس آپ کھڑے ہوا کرتے تھے چرچرانے لگی، تو آپ ﷺ تشریف لائے اور اس پر اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5955
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 194، حدیث 5977