حدیث نمبر: 5957
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَقَعَ بَيْنَهُمْ كَلَامٌ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدِيمًا كَانَ ذَلِكَ بَيْنَهُمْ، قُومُوا بِنَا إِلَيْهِمْ» ، فَقَامَ مَعَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَسُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَرَاثَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي أَبْطَأَ -، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: تَرَوْنَ ذَلِكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَتَقَدَّمَ وَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُصَفِّحُونَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَهُمْ يُصَفِّحُونَ الْتَفَتَ، فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ مَكَانَكَ، فَتَأَخَّرَ، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ فِي مَكَانِكَ حِينَ أَوْمَأْتُ إِلَيْكَ؟» ، قَالَ: مَا كَانَ لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَمَامَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ صَفَّحْتُمْ؟ مَنْ نَابَهُ فِي صَلَاتِهِ شَيْءٌ، فَإِنَّ التَّسْبِيحَ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقَ لِلنِّسَاءِ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! بنو عمرو بن عوف کے درمیان کچھ بات چیت ہوئی جو پتھراؤ تک جا پہنچی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ان کے درمیان پرانی بات ہے، چلو ہم ان کے پاس چلیں۔“ آپ ﷺ کے ساتھ ابی بن کعب اور سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہما بھی کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے ان کے درمیان صلح کرا دی۔ اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ رسول اللہ ﷺ کو واپسی میں دیر ہو گئی، تو لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آگے بڑھیے۔ انہوں نے پوچھا: کیا تم یہی مناسب سمجھتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو لوگ تالی بجانے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ وہ نماز میں مڑ کر نہیں دیکھتے تھے، مگر جب انہوں نے لوگوں کو تالی بجاتے سنا تو مڑ کر دیکھا، تو رسول اللہ ﷺ کو دیکھا۔ وہ پیچھے کی طرف ہٹنے لگے تو آپ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو، مگر وہ پیچھے ہٹ گئے، اور رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تو تمہیں اپنی جگہ کھڑے رہنے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کیا ہو گیا کہ میں دیکھتا ہوں تم لوگوں نے تالی بجائی؟ جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو تسبیح مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5957
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 194، حدیث 5979