حدیث نمبر: 5917
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ثنا مُبَشِّرُ بْنُ مُكَسِّرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا فَسَكَتَ، فَقَامَتْ حَتَّى رَثَيْنَا لَهَا مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: زَوِّجْنِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «مَا تُصْدِقُهَا؟» قَالَ: هَذِهِ الشَّمْلَةَ الَّتِي عَلَيَّ، لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُهَا، قَدْ عَقَدَهَا عَلَى صَدْرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ: «أَرَأَيْتَ إِنْ عَرَّسْتَ، أَعِنْدَكَ غَيْرُهَا؟» قَالَ: لَا وَاللهِ، قَالَ: «اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ فَمَكَثَ مَا شَاءَ اللهُ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: مَا وَجَدْتُ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: «مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ؟» قَالَ: آيَةُ كَذَا وَآيَةُ كَذَا، قَالَ: فَقَالَ: «فَقَدْ زَوَّجْتُكَ عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے اپنے آپ کو نکاح کے لیے پیش کیا تو آپ ﷺ خاموش رہے۔ وہ کھڑی رہی یہاں تک کہ ہمیں اس کے طویل کھڑے رہنے پر ترس آنے لگا۔ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم اسے مہر میں کیا دو گے؟“ اس نے کہا: یہی چادر جو میرے اوپر ہے، اس کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں، اور اس نے وہ چادر اپنے سینے پر باندھ رکھی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ، اگر تم شادی کرو تو کیا تمہارے پاس اس کے سوا کچھ ہوگا؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور کچھ تلاش کرو، چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔“ وہ گیا اور جتنی دیر اللہ نے چاہی ٹھہرا، پھر واپس آ کر عرض کیا: مجھے لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قرآن میں سے کیا یاد ہے؟“ اس نے کہا: فلاں فلاں آیت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے اس کا نکاح تم سے کر دیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5917
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 184، حدیث 5938