حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، إِذْ قِيلَ لَهُ: كَانَ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَهْلِ قُبَاءَ شَيْءٌ، فَقَالَ: قَدِيمٌ قَدْ كَانَ ذَلِكَ، كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جِيءَ فَقِيلَ لَهُ: قَدْ صَارَ بَيْنَ أَهْلِ قُبَاءَ شَيْءٌ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَأَبْطَأَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ بِلَالٌ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَلَا أُقِيمُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: مَا شِئْتَ، فَأَقَامَ فَقَدَّمَ النَّاسُ أَبَا بَكْرٍ، فَبَيْنَا هُوَ يُصَلِّي أَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَشُقُّ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَجَعَلُوا يُصَفِّحُونَ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا الْتَفَتَ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ خَلْفَهُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ كَمَا هُوَ، فَنَكَصَ إِلَى وَرَائِهِ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «مَا مَنَعَكَ إِذْ أَمَرْتُكَ أَنْ لَا تَكُونَ صَلَّيْتَ؟» قَالَ: لَا يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يَتَقَدَّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا شَأْنُ التَّصْفِيقِ فِي الصَّلَاةِ، إِنَّمَا التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»
ترجمہ
ابوحازم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ ان سے کہا گیا: بنو عمرو بن عوف اور اہلِ قباء کے درمیان کوئی معاملہ ہوا تھا۔ انہوں نے فرمایا: یہ پرانی بات ہے، ایسا ہوا تھا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ (کوئی) آیا اور آپ سے کہا گیا: اہلِ قباء کے درمیان کوئی معاملہ پیش آ گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے ان کی طرف روانہ ہوئے، مگر (واپسی میں) دیر لگا دی۔ اس پر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا میں نماز کھڑی نہ کروں؟ انہوں نے فرمایا: جیسے تم چاہو۔ چنانچہ انہوں نے اقامت کہی اور لوگوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آگے بڑھایا۔ وہ نماز پڑھا ہی رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور صفوں کو چیرتے ہوئے چلنے لگے یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے آ کھڑے ہوئے، اور لوگ تالی بجانے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر ادھر نہیں دیکھتے تھے، مگر جب تالیاں زیادہ ہوئیں تو انہوں نے مڑ کر دیکھا، تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ وہ جیسے ہیں ویسے ہی نماز پڑھاتے رہیں، مگر وہ پیچھے ہٹ گئے اور نبی کریم ﷺ آگے بڑھے۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب میں نے تمہیں حکم دیا تھا تو تمہیں نماز پڑھانے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: ابوقحافہ کے بیٹے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں تالی بجانے کا کیا معاملہ ہے؟ تسبیح تو مردوں کے لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَوَهَبَتْ نَفْسَهَا لَهُ فَصَمَتَ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا؟ فَقَالَ: «أَلَكَ شَيْءٌ؟» قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: سُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا، فَقَالَ: «قَدْ أَمْلَكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ» ، فَرَأَيْتُهُ يَمْضِي وَهِيَ تَتْبَعُهُ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا، آپ ﷺ خاموش رہے۔ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا کیا؟ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اس کا نکاح تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے تم سے کر دیا۔“ میں نے دیکھا کہ وہ شخص چل پڑا اور وہ عورت اس کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ شَرِيكٍ الْأَسَدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ، وَيُحِبُّ مَعَالِيَ الْأَخْلَاقِ، وَيَكْرَهُ سَفْسَافَهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل سخی ہے اور سخاوت کو پسند کرتا ہے، اور اعلیٰ اخلاق کو پسند کرتا ہے، اور گھٹیا اخلاق کو ناپسند کرتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا، أَوْ سَبْعُمِائَةِ أَلْفٍ، بِغَيْرِ حِسَابٍ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میری امت میں سے ستر ہزار، یا سات لاکھ افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“