حدیث نمبر: 5906
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَوَهَبَتْ نَفْسَهَا لَهُ فَصَمَتَ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا؟ فَقَالَ: «أَلَكَ شَيْءٌ؟» قَالَ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «فَهَلْ تَقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا؟» ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: سُورَةَ كَذَا وَسُورَةَ كَذَا، فَقَالَ: «قَدْ أَمْلَكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ» ، فَرَأَيْتُهُ يَمْضِي وَهِيَ تَتْبَعُهُ "
ترجمہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا، آپ ﷺ خاموش رہے۔ اس پر ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں قرآن میں سے کچھ یاد ہے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا کیا؟ اس نے کہا: فلاں فلاں سورت۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اس کا نکاح تمہارے پاس جو قرآن ہے اس کے بدلے تم سے کر دیا۔“ میں نے دیکھا کہ وہ شخص چل پڑا اور وہ عورت اس کے پیچھے پیچھے جا رہی تھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5906
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 181، حدیث 5927