حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَاءٍ فِي دَرَقَةٍ - يَعْنِي تُرْسًا - يَوْمَ أُحُدٍ، فَغَسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ، وَقَالَ: «هَذَا مَاءٌ قَدْ أَسِنَ» - يَعْنِي تَغَيَّرَ - قَالَ: وَأَخَذَتْ فَاطِمَةُ قِطْعَةَ حَصِيرٍ فَأَحْرَقَتْهُ وَوَضَعَتْهُ عَلَى جُرْحِهِ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ڈھال میں پانی لے کر آئے، رسول اللہ ﷺ نے اس سے اپنا چہرہ مبارک دھویا اور فرمایا: ”یہ پانی تو بدبودار ہو چکا ہے“ یعنی اس کی حالت بدل چکی تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر اسے جلایا اور آپ ﷺ کے زخم پر رکھ دیا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَقَعَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَلَامٌ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا، فَأَلْقَى نَفْسَهُ عَلَى التُّرَابِ، فَسَأَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَلَامٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ نَائِمًا عَلَى التُّرَابِ، فَأَيْقَظَهُ وَجَعَلَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ، وَيَقُولُ: «إِنَّمَا أَنْتَ أَبُو تُرَابٍ» ، قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ: «كُنَّا نَمْدَحُهُ بِهَا، فَإِذَا أُنَاسٌ يَعِيبُونَهُ بِهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ بات چیت ہو گئی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ناراض ہو کر نکل گئے اور خود کو مٹی پر ڈال دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا: میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تھی جس پر وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ مٹی پر سوئے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں جگایا اور ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمانے لگے: ”تم تو ابوتراب ہو۔“ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم انہیں اسی نام سے تعریف کے طور پر پکارا کرتے تھے، پھر کچھ لوگ اسی نام سے ان پر طعنہ زنی کرنے لگے۔“