حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا أَبُو سُلَيْمٍ بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ الصَّوَّافُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يُصْلِحُونَ عِنْدَ فَسَادِ النَّاسِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی ابتدا اجنبی حالت میں ہوئی اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، پس خوشخبری ہے اجنبیوں کے لیے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اجنبی کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو لوگوں کے بگڑ جانے کے وقت اصلاح کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقٍ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَابْنُهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ تَرَوْنَ إِذَا أُخِّرْتُمْ فِي زَمَانِ حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ، قَدْ مُزِجَتْ عُهُودُهُمْ ونُذُورُهُمْ فاشْتَبَكُوا، فَكَانُوا هَكَذَا؟» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَيُقْبِلُ أَحَدُكُمْ عَلَى خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَيَذَرُ أَمْرَ الْعَامَّةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم ایک مجلس میں تھے جس میں عمرو بن العاص اور ان کا بیٹا بھی موجود تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر تم اس وقت تک باقی رہو جب لوگوں کا نکما طبقہ باقی رہ جائے، جن کے عہد و پیمان آپس میں گڈمڈ ہو کر الجھ چکے ہوں، اور وہ ایسے ہو جائیں“، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر دیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم وہی اختیار کرو گے جسے اچھا سمجھتے ہو، اور وہ چھوڑ دو گے جسے برا سمجھتے ہو، اور تم میں سے ہر شخص اپنی ذات کے معاملے میں لگ جائے گا اور عام لوگوں کا معاملہ چھوڑ دے گا۔“