المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
نجيح أبو معشر المدني، عن أبي حازم باب: نجیح ابومعشر مدنی کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5849
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: وَقَعَ بَيْنَ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَلَامٌ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ مُغْضَبًا، فَأَلْقَى نَفْسَهُ عَلَى التُّرَابِ، فَسَأَلَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كَلَامٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُ نَائِمًا عَلَى التُّرَابِ، فَأَيْقَظَهُ وَجَعَلَ يَمْسَحُ التُّرَابَ عَنْ ظَهْرِهِ، وَيَقُولُ: «إِنَّمَا أَنْتَ أَبُو تُرَابٍ» ، قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ: «كُنَّا نَمْدَحُهُ بِهَا، فَإِذَا أُنَاسٌ يَعِيبُونَهُ بِهَا»ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں... سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوئی تو وہ ناراض ہو کر چلے گئے۔ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ وہ مٹی پر سوئے ہوئے ہیں۔ آپ ﷺ نے انہیں جگایا اور ان کی پیٹھ سے مٹی جھاڑنے لگے اور فرمانے لگے: ”تم تو ابوتراب ہو۔“ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم انہیں اسی نام سے تعریف کے طور پر پکارا کرتے تھے، پھر کچھ لوگ اسی نام سے ان پر طعنہ زنی کرنے لگے۔“