المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بكر بن سليم الصواف المدني، عن أبي حازم باب: بکر بن سلیم صواف مدنی کی ابوحازم سے روایات
حدیث نمبر: 5846
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقِ بْنِ جَامِعٍ الْمِصْرِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا أَبُو سُلَيْمٍ بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ الصَّوَّافُ، ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: «الَّذِينَ يُصْلِحُونَ عِنْدَ فَسَادِ النَّاسِ»ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی ابتدا اجنبی حالت میں ہوئی اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، پس خوشخبری ہے اجنبیوں کے لیے۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اجنبی کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو لوگوں کے بگڑ جانے کے وقت اصلاح کرتے ہیں۔“