المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بكر بن سليم الصواف المدني، عن أبي حازم باب: بکر بن سلیم صواف مدنی کی ابوحازم سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُزَيْقٍ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، ثنا بَكْرُ بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَنَحْنُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَابْنُهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ تَرَوْنَ إِذَا أُخِّرْتُمْ فِي زَمَانِ حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ، قَدْ مُزِجَتْ عُهُودُهُمْ ونُذُورُهُمْ فاشْتَبَكُوا، فَكَانُوا هَكَذَا؟» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «تَأْخُذُونَ مَا تَعْرِفُونَ، وَتَدَعُونَ مَا تُنْكِرُونَ، وَيُقْبِلُ أَحَدُكُمْ عَلَى خَاصَّةِ نَفْسِهِ وَيَذَرُ أَمْرَ الْعَامَّةِ»سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم ایک مجلس میں تھے جس میں عمرو بن العاص اور ان کا بیٹا بھی موجود تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اگر تم اس وقت تک باقی رہو جب لوگوں کا نکما طبقہ باقی رہ جائے، جن کے عہد و پیمان آپس میں گڈمڈ ہو کر الجھ چکے ہوں، اور وہ ایسے ہو جائیں“، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کر دیں۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم وہی اختیار کرو گے جسے اچھا سمجھتے ہو، اور وہ چھوڑ دو گے جسے برا سمجھتے ہو، اور تم میں سے ہر شخص اپنی ذات کے معاملے میں لگ جائے گا اور عام لوگوں کا معاملہ چھوڑ دے گا۔“