حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي حَازِمُ بْنُ تَمَامٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَجْلِسَ مَجْلِسِي، فَأَذْكُرَ اللهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَدٍّ عَلَى جِيَادِ الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، هَكَذَا قَالَ الدَّبَرِيُّ: عَيَّاشٌ، وإِنَّمَا هُوَ عَبَّاسٌ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات کہ میں فجر کی نماز پڑھوں، پھر اپنی جگہ بیٹھ کر سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر کرتا رہوں، یہ مجھے اللہ کی راہ میں تیز رفتار گھوڑوں پر جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔“
(سند سے متعلق نوٹ:) دَبَری نے اسی طرح ”عیاش“ کہا ہے، حالانکہ صحیح نام ”عباس“ ہے۔
(سند سے متعلق نوٹ:) دَبَری نے اسی طرح ”عیاش“ کہا ہے، حالانکہ صحیح نام ”عباس“ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزْدَادَ التَّوْزِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، ثنا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ أَحَدِ بَنِي مَالِكٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو أُسَيْدٍ، وَأَبُو حُمَيْدٍ، «وَأَنَّهُمْ تَذَاكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا أَنَّهُ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ»
ترجمہ
عباس بن سہل ساعدی بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک مجلس میں تھے جس میں ان کے والد سیدنا سہل رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابواسید اور سیدنا ابوحمید رضی اللہ عنہم موجود تھے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ اپنی دائیں اور بائیں طرف سلام پھیرا کرتے تھے۔