المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
العباس بن سهل بن سعد عن أبيه باب: عباس بن سہل بن سعد کی اپنے والد سے روایات
حدیث نمبر: 5716
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي حَازِمُ بْنُ تَمَامٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ أُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَجْلِسَ مَجْلِسِي، فَأَذْكُرَ اللهَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَدٍّ عَلَى جِيَادِ الْخَيْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، هَكَذَا قَالَ الدَّبَرِيُّ: عَيَّاشٌ، وإِنَّمَا هُوَ عَبَّاسٌترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ بات کہ میں فجر کی نماز پڑھوں، پھر اپنی جگہ بیٹھ کر سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر کرتا رہوں، یہ مجھے اللہ کی راہ میں تیز رفتار گھوڑوں پر جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔“
(سند سے متعلق نوٹ:) دَبَری نے اسی طرح ”عیاش“ کہا ہے، حالانکہ صحیح نام ”عباس“ ہے۔