حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، أَخْبَرَنِي ثَابِتُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُنَيْسَةُ بِنْتُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أَبِيهَا زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ حِلٌّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي وَحَرَامٌ عَلَى ذُكُورِهَا»
ترجمہ
سیدہ انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا اور ریشم میری امت کی عورتوں کے لیے حلال ہے اور مردوں کے لیے حرام ہے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، قَالَا: ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَتْنَا نُبَاتَةُ بِنْتُ بريرٍ، عَنْ حَمَادَةَ، عَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ مِنْ مَرِضٍ كَانَ بِهِ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ هَذَا بَأْسٌ، وَلَكِنْ كَيْفَ بِكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ؟» قَالَ: إِذَنْ أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ، قَالَ: «إِذَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَمَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَدَّ اللهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ، ثُمَّ مَاتَ رَحِمَهُ اللهُ
ترجمہ
سیدہ انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس ان کی بیماری کے دوران عیادت کے لیے تشریف لائے، فرمایا: ”تمہیں اس بیماری میں کوئی خطرہ نہیں، لیکن اس وقت کیا حال ہوگا جب میرے بعد تمہیں عمر ملے اور تم نابینا ہو جاؤ؟“ انہوں نے کہا: تب میں ثواب کی امید رکھوں گا اور صبر کروں گا۔ فرمایا: ”تب تم بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گے۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد وہ نابینا ہو گئے، پھر اللہ نے ان کی بینائی لوٹا دی، پھر ان کا انتقال ہو گیا، اللہ ان پر رحم فرمائے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنَا ثَابِتُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ زَيْدًا، دَخَلَ عَلَى الْمُخْتَارِ فَقَالَ: يَا أَبَا عَامِرٍ لَوْ سَبَقْتَ رَأَيْتَ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ، قَالَ: «حَفَرْتَ وَنَقَرْتَ أَنْتَ أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنِّي ذَاكَ كَذَّابٌ مُفْتَرٍ عَلَى اللهِ وَعَلَى رَسُولِهِ»
ترجمہ
سیدہ انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مختار کے پاس گئے، اس نے کہا: اے ابوعامر! اگر تم پہلے آتے تو جبریل اور میکائیل کو دیکھتے۔ زید نے فرمایا: ”تم نے گڑھا کھودا اور جھوٹ گھڑا، تم اللہ کے نزدیک اس سے کہیں زیادہ حقیر ہو، یہ ایک جھوٹا ہے، اللہ اور اس کے رسول پر افتراء باندھنے والا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشَّجَرَاتِ فَقُمَّ مَا تَحْتَهَا وَرُشَّ، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَوَاللهِ مَا مِنْ شَيْءٍ يَكُونُ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ إِلَّا وَقَدْ أَخْبَرَنَا بِهِ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ؟» قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَوْلَى بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، قَالَ: «فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ» يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ فَكَشَطَهَا، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»
ترجمہ
(رسول اللہ ﷺ نے) درختوں کے بارے میں حکم دیا، تو ان کے نیچے کی جگہ صاف کی گئی اور پانی چھڑکا گیا، پھر آپ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ کی قسم! قیامت تک پیش آنے والی کوئی چیز ایسی نہ تھی جس کی خبر آپ ﷺ نے اس دن نہ دی ہو، پھر فرمایا: ”اے لوگو! تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق دار کون ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہماری جانوں پر ہم سے زیادہ حق دار ہیں۔ فرمایا: ”تو جس کا میں مولیٰ ہوں، یہ (علی) اس کے مولیٰ ہیں“ - یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ - پھر آپ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اسے اونچا کیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“