حدیث نمبر: 5107
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، قَالَا: ثنا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَتْنَا نُبَاتَةُ بِنْتُ بريرٍ، عَنْ حَمَادَةَ، عَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ مِنْ مَرِضٍ كَانَ بِهِ قَالَ: «لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ هَذَا بَأْسٌ، وَلَكِنْ كَيْفَ بِكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ؟» قَالَ: إِذَنْ أَحْتَسِبُ وَأَصْبِرُ، قَالَ: «إِذَنْ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَمَا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ رَدَّ اللهُ عَلَيْهِ بَصَرَهُ، ثُمَّ مَاتَ رَحِمَهُ اللهُ
ترجمہ

سیدہ انیسہ بنت زید بن ارقم رضی اللہ عنہا اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس ان کی بیماری کے دوران عیادت کے لیے تشریف لائے، فرمایا: ”تمہیں اس بیماری میں کوئی خطرہ نہیں، لیکن اس وقت کیا حال ہوگا جب میرے بعد تمہیں عمر ملے اور تم نابینا ہو جاؤ؟“ انہوں نے کہا: تب میں ثواب کی امید رکھوں گا اور صبر کروں گا۔ فرمایا: ”تب تم بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گے۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد وہ نابینا ہو گئے، پھر اللہ نے ان کی بینائی لوٹا دی، پھر ان کا انتقال ہو گیا، اللہ ان پر رحم فرمائے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5107
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 211، حدیث 5126