حدیث نمبر: 5109
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشَّجَرَاتِ فَقُمَّ مَا تَحْتَهَا وَرُشَّ، ثُمَّ خَطَبَنَا، فَوَاللهِ مَا مِنْ شَيْءٍ يَكُونُ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ إِلَّا وَقَدْ أَخْبَرَنَا بِهِ يَوْمَئِذٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَوْلَى بِكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ؟» قُلْنَا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَوْلَى بِنَا مِنْ أَنْفُسِنَا، قَالَ: «فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ» يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ فَكَشَطَهَا، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ»
ترجمہ

(رسول اللہ ﷺ نے) درختوں کے بارے میں حکم دیا، تو ان کے نیچے کی جگہ صاف کی گئی اور پانی چھڑکا گیا، پھر آپ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ کی قسم! قیامت تک پیش آنے والی کوئی چیز ایسی نہ تھی جس کی خبر آپ ﷺ نے اس دن نہ دی ہو، پھر فرمایا: ”اے لوگو! تمہاری جانوں پر تم سے زیادہ حق دار کون ہے؟“ ہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہماری جانوں پر ہم سے زیادہ حق دار ہیں۔ فرمایا: ”تو جس کا میں مولیٰ ہوں، یہ (علی) اس کے مولیٰ ہیں“ - یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ - پھر آپ ﷺ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اسے اونچا کیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! جو ان سے دوستی رکھے تو اس سے دوستی رکھ، اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس سے دشمنی رکھ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5109
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 212، حدیث 5128