کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابومسلم بجلی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا دَاوُدُ الطُّفَاوِيُّ، يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: «اللهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، اللهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّ كُلِّ شَيْءٍ أَنَا شَهِيدٌ أَنَّ الْعِبَادَ كُلَّهُمْ إِخْوَةٌ، اللهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّ كُلِّ شَيْءٍ اجْعَلْنِي مُخْلِصًا لَكَ وَأَهْلِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ اسْمَعْ وَاسْتَجِبْ، اللهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، اللهُمَّ أَنْتَ نُورُ السَّماَوَاتِ وَالْأَرْضِ اللهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ، حَسْبِي اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ اللهُ الْأَكْبَرُ الْأَكْبَرُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو ہمارا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ تیرے بندے اور رسول ہیں۔ اے اللہ! تو ہمارا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اے اللہ! تو ہمارا رب ہے اور ہر چیز کا رب ہے، مجھے اور میرے گھر والوں کو دنیا و آخرت میں اپنے لیے خالص کر دے، اے جلال و اکرام والے! سن اور قبول فرما، اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا۔ اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا۔ مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، سب سے بڑا۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، فَإِنْ يَكُ نَبِيًّا فَنَحْنُ أَسْعَدُ النَّاسِ بِهِ، وَإِنْ كَانَ مَلِكًا عِشْنَا فِي جَنَاحِهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالُوا، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلُوا يُنَادُونَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ} [الحجرات: ٤] وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِي وَقَالَ: «لَقَدْ صَدَقَ اللهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عربوں میں سے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: ہمیں اس آدمی کے پاس لے چلو، اگر وہ نبی ہے تو ہم اس کی وجہ سے سب لوگوں سے زیادہ خوش نصیب ہوں گے، اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے سائے میں زندگی گزاریں گے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ کو ان کی بات بتائی، پھر وہ نبی کریم ﷺ کے حجروں کے پاس آئے اور پکارنے لگے: اے محمد! اے محمد! راوی کہتے ہیں: تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں“ [الحجرات: 4]، اور رسول اللہ ﷺ نے میرا کان پکڑا اور فرمایا: ”اے زید! اللہ نے تمہاری بات کو سچا ثابت کر دیا۔“