المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو مسلم البجلي، عن زيد بن أرقم باب: ابومسلم بجلی کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ الطُّفَاوِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ الْبَجَلِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْعَرَبِ، فَقَالُوا: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى هَذَا الرَّجُلِ، فَإِنْ يَكُ نَبِيًّا فَنَحْنُ أَسْعَدُ النَّاسِ بِهِ، وَإِنْ كَانَ مَلِكًا عِشْنَا فِي جَنَاحِهِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَالُوا، ثُمَّ جَاءُوا إِلَى حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلُوا يُنَادُونَ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ} [الحجرات: ٤] وَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنِي وَقَالَ: «لَقَدْ صَدَقَ اللهُ قَوْلَكَ يَا زَيْدُ»سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عربوں میں سے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: ہمیں اس آدمی کے پاس لے چلو، اگر وہ نبی ہے تو ہم اس کی وجہ سے سب لوگوں سے زیادہ خوش نصیب ہوں گے، اور اگر وہ بادشاہ ہے تو ہم اس کے سائے میں زندگی گزاریں گے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ کو ان کی بات بتائی، پھر وہ نبی کریم ﷺ کے حجروں کے پاس آئے اور پکارنے لگے: اے محمد! اے محمد! راوی کہتے ہیں: تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں“ [الحجرات: 4]، اور رسول اللہ ﷺ نے میرا کان پکڑا اور فرمایا: ”اے زید! اللہ نے تمہاری بات کو سچا ثابت کر دیا۔“