کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوالمنہال کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، عَنِ الصَّرْفِ، فَهَذَا يَقُولُ: سَلْ هَذَا، وَهَذَا يَقُولُ: سَلْ هَذَا، فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، كِلَاهُمَا يَقُولُ ذَلِكَ، فَسَأَلْتُهُمَا فَقَالَا: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا»
ترجمہ
ابومنہال بیان کرتے ہیں: میں نے براء بن عازب اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے صرف (کرنسی کے تبادلے) کے بارے میں پوچھا، تو یہ کہتے: اس سے پوچھو، اور وہ کہتے: اس سے پوچھو، کیونکہ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والا ہے، دونوں یہی کہتے۔ چنانچہ میں نے دونوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا: ”رسول اللہ ﷺ نے چاندی کو سونے کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَا: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَصْرِفُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ» وَتُكْرَهُ النَّسِيئَةُ
ترجمہ
ابومنہال بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ ہم صرف (کرنسی کا لین دین) کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نقد بہ نقد (لین دین) میں کوئی حرج نہیں“، البتہ ادھار کو ناپسند کیا۔ یہ براء اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔