کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: ابوالمنہال کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، عَنِ الصَّرْفِ، فَهَذَا يَقُولُ: سَلْ هَذَا، وَهَذَا يَقُولُ: سَلْ هَذَا، فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، كِلَاهُمَا يَقُولُ ذَلِكَ، فَسَأَلْتُهُمَا فَقَالَا: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا»
ترجمہ
ابومنہال بیان کرتے ہیں: میں نے براء بن عازب اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے صرف (کرنسی کے تبادلے) کے بارے میں پوچھا، تو یہ کہتے: اس سے پوچھو، اور وہ کہتے: اس سے پوچھو، کیونکہ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والا ہے، دونوں یہی کہتے۔ چنانچہ میں نے دونوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا: ”رسول اللہ ﷺ نے چاندی کو سونے کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5019
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 186، حدیث 5038
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَا: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نَصْرِفُ فَقَالَ: «لَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ» وَتُكْرَهُ النَّسِيئَةُ
ترجمہ
سیدنا براء اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ ہم صرف (کرنسی کا لین دین) کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نقد بہ نقد (لین دین) میں کوئی حرج نہیں“، البتہ ادھار کو ناپسند کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 5020
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 186، حدیث 5039