المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو المنهال، عن زيد بن أرقم باب: ابوالمنہال کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 5019
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، عَنِ الصَّرْفِ، فَهَذَا يَقُولُ: سَلْ هَذَا، وَهَذَا يَقُولُ: سَلْ هَذَا، فَإِنَّهُ خَيْرٌ مِنِّي وَأَعْلَمُ، كِلَاهُمَا يَقُولُ ذَلِكَ، فَسَأَلْتُهُمَا فَقَالَا: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَرِقِ بِالذَّهَبِ دَيْنًا»ترجمہ
ابومنہال بیان کرتے ہیں: میں نے براء بن عازب اور سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے صرف (کرنسی کے تبادلے) کے بارے میں پوچھا، تو یہ کہتے: اس سے پوچھو، اور وہ کہتے: اس سے پوچھو، کیونکہ وہ مجھ سے بہتر اور زیادہ جاننے والا ہے، دونوں یہی کہتے۔ چنانچہ میں نے دونوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا: ”رسول اللہ ﷺ نے چاندی کو سونے کے بدلے ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔“