المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبد الله بن الخليل، عن زيد بن أرقم باب: عبداللہ بن خلیل کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَجْلَحِ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنُ مُعَاذِ بْنِ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ الْأَجْلَحِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَجْلَحِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى الْيَمَنِ، فَأُتِيَ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَجَاءَتْ بِوَلَدٍ، فَجَعَلَ يَقُولُ لِوَاحِدٍ وَاحِدٍ: أَتَرْضَى أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ لِهَذَا؟ أَنْتُمُ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَجَعَلَ الْوَلَدَ لِلَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ لِلْآخَرَيْنِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ أَضْرَاسُهُ "عبداللہ بن خلیل، سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو ان کے پاس تین آدمی لائے گئے جنہوں نے ایک ہی طہر میں ایک عورت سے تعلق قائم کیا تھا اور اس سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ آپ نے ایک ایک سے پوچھنا شروع کیا: کیا تم راضی ہو کہ بچہ اس کا ہو؟ پھر فرمایا: تم آپس میں جھگڑنے والے شریک ہو، چنانچہ آپ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور بچہ اسی کا قرار دیا جس کے نام قرعہ نکلا، اور باقی دو کے لیے دیت کے دو تہائی حصے کا تاوان اس پر لازم کیا۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں۔