کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: «صَلَّيْتُ خَلْفَ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، ثُمَّ صَلَّيْتُ خَلْفَهُ عَلَى أُخْرَى فَكَبَّرَ عَلَيْهَا خَمْسًا» ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُهَا»
ترجمہ
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک جنازے کی نماز پڑھی تو انہوں نے چار تکبیریں کہیں، پھر ایک اور جنازے میں ان کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح تکبیریں کہا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: قُلْنَا: «يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لكُلِّ قَوْمٍ تَبَعًا وَإِنَّا قَدِ اتَّبَعْنَاكَ فَادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَ أَتْبَاعَنَا مِنَّا، فَدَعَا» فَقَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: فَنَمَّيْتُ ذَلِكَ إِلَى ابْنِ أَبِي لَيْلَى، فَقَالَ: «قَدْ زَعَمَ ذَلِكَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر قوم کے پیروکار ہوتے ہیں اور ہم نے آپ کی پیروی کی ہے، تو اللہ سے دعا کیجیے کہ ہمارے پیروکار بھی ہم ہی میں سے ہوں، چنانچہ آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابن ابی لیلیٰ کو بتائی تو انہوں نے کہا: زید بن ارقم نے یہی کہا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: كُنَّا إِذَا قُلْنَا لِزَيْدَ بْنِ أَرْقَمَ: حَدِّثْنَا، قَالَ: «كَبِرْنَا وَنَسِينَا، وَالْحَدِيثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ»
ترجمہ
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں: جب ہم سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہتے کہ ہمیں حدیث بیان کریں تو وہ فرماتے: ہم بوڑھے ہو گئے اور بھول گئے، اور رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرنا بڑی ذمہ داری کی بات ہے۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمِزْرِبانِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: " لَمَّا قَالَ ابْنُ أُبَيٍّ مَا قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَجَاءَ فَحَلَفَ مَا قَالَ، فَجَعَلَ نَاسٌ يَقُولُونَ: جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْكَذِبِ، حَتَّى جَلَسْتُ فِي الْبَيْتِ مَخَافَةَ إِذَا رَأَوْنِي قَالُوا: هَذَا الَّذِي يَكْذِبُ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ} [المنافقون: ٧] "
ترجمہ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ابن اُبَی نے وہ بات کہی جو اس نے کہی، تو میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے اسے بلوایا تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے ایسا نہیں کہا۔ چنانچہ لوگ کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے (میری بات کو) جھوٹ قرار دیا۔ یہاں تک کہ میں گھر میں بیٹھ گیا، اس خوف سے کہ جب لوگ مجھے دیکھیں گے تو کہیں گے: یہ وہی ہے جو جھوٹ بولتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں …“ [المنافقون: 7]۔