کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عبدالرحمن بن شماسہ مہری کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ السَّيْلَحِينِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ إِذَا قَالَ: «طُوبَى لِلشَّامِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَلِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: «إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهِمْ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے چمڑے کے ٹکڑوں سے قرآن مجید مرتب کر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شام کے لیے خوشخبری ہے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! ایسا کیوں؟ فرمایا: ”بیشک رحمن کے فرشتے اہل شام پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِمَاسَةَ، يُخْبِرُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ الْوَحْيَ فَقَالَ: «طُوبَى لِلشَّامِ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقُلْنَا: وَمَا ذَاكَ يَا نَبِيَّ اللهِ؟ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ نَاشِرَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَى الشَّامِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس وحی لکھ رہے تھے کہ آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: ”شام کے لیے خوشخبری ہے۔“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ایسا کیوں؟ فرمایا: ”بیشک فرشتوں نے اپنے پر شام پر پھیلا رکھے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عَنْدَهُ: «طُوبَى لِلشَّامِ» فَقُلْنَا: مَا بَالُهُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِنَّ الرَّحْمَنَ لَبَاسِطٌ رَحْمَتَهُ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”شام کے لیے خوشخبری ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کا کیا معاملہ ہے؟ فرمایا: ”بیشک رحمن نے اپنی رحمت اس پر پھیلا رکھی ہے۔“