المعجم الكبير للطبراني
باب الزاي— حرف زا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ضمرة بن حبيب، عن زيد بن ثابت باب: ضمرہ بن حبیب کی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ ضَمْرَةِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَعَاهَدَ بِهِ أَهْلَهُ كُلَّ صَبَاحٍ: «لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَمِنْكَ وَبِكَ وَإِلَيْكَ، اللهُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ وَنَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حَلَفٍ فَمَشِيئَتُكَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللهُمَّ مَا صَلَّيْتُ مِنْ صَلَاةٍ فَعَلَى مَنْ صَلَّيْتُ، وَمَا لَعَنْتَ مِنْ لَعْنَةٍ فَعَلَى مَنْ لَعَنْتَ، أَنْتَ وَلِيِّ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكُ الرِّضَى بِالْقَدَرِ وَبَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَلَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ وَشَوْقًا إِلَى لِقَائِكَ مِنْ غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَعْتَدِي أَوْ يُعْتَدَى عَلَيَّ أَوْ أَكْتسِبَ خَطِيئَةً مُخْطِئَةً أَوْ أَذْنِبُ ذَنْبًا، اللهُمَّ فَاطِرَ السَّماوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَإِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَأُشْهِدُكَ وَكَفَى بِكَ شَهِيدًا، إِنِّي أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، لَكَ الْمَلِكُ وَلَكَ الْحَمْدُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَأَشْهَدُ أَنَّ وَعْدَكَ حَقٌّ وَلِقَاءَكَ حَقٌّ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَإِنَّكَ تَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ وَأَشْهَدُ أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تَكِلْنِي إِلَى ضِعْفٍ وَعَوْرَةٍ وَذَنْبٍ وَخَطِيئَةٍ، فَإِنِّي لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ، فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذَّنْبَ إِلَّا أَنْتَ، وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ»سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں یہ (دعا) سکھائی اور حکم دیا کہ وہ ہر صبح اپنے گھر والوں کو اس کی تاکید کریں: ”لبیک اللھم لبیک، وسعدیک، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، اور تجھ ہی سے ہے، تیرے ہی ذریعے ہے اور تیری ہی طرف ہے۔ اے اللہ! میں نے جو بات کہی، جو نذر مانی یا جو قسم کھائی، اس (سب) پر تیری مشیت مقدم ہے، جو تو چاہے وہی ہوتا ہے اور جو تو نہ چاہے وہ نہیں ہوتا، اور کوئی طاقت و قوت نہیں مگر اللہ کی توفیق سے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! میں نے جو دعائے خیر کی وہ اسی کے لیے ہو جس کے لیے میں نے کی، اور جس پر میں نے لعنت بھیجی وہ اسی پر ہو جس پر میں نے بھیجی۔ تو ہی دنیا و آخرت میں میرا کارساز ہے، مجھے مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے اور نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تقدیر پر راضی رہنے کا سوال کرتا ہوں، موت کے بعد ٹھنڈک والی زندگی کا، تیرے چہرے کے دیدار کی لذت کا، اور تیری ملاقات کے اشتیاق کا، بغیر کسی نقصان دہ تکلیف اور گمراہ کن فتنے کے۔ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم ہو، یا زیادتی کروں یا مجھ پر زیادتی ہو، یا میں کوئی گناہ کما لوں یا کوئی خطا کر بیٹھوں۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے، عظمت و بزرگی والے! میں اس دنیا کی زندگی میں تجھ سے عہد باندھتا ہوں اور تجھے گواہ بناتا ہوں، اور تیرا گواہ ہونا کافی ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، بادشاہی تیری ہے اور تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، اور تو ہر چیز پر قادر ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ تیرے بندے اور رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ سچا ہے، تیری ملاقات حق ہے، اور قیامت بلاشبہ آنے والی ہے، اور تو قبروں میں پڑے لوگوں کو اٹھائے گا۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اگر تو مجھے میرے نفس کے سپرد کر دے تو مجھے کمزوری، عیب، گناہ اور خطا کے سپرد کر دے گا، اس لیے میں تیری رحمت کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتا۔ پس میرا گناہ بخش دے، کیونکہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخشتا، اور میری توبہ قبول فرما، بیشک تو بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“