حدیث نمبر: 4872
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الْآخِرَةَ جَمَعَ اللهُ لَهُ شَمْلَهُ، وَجَعَلَ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا رَاغِمَةً، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ الدُّنْيَا فَرَّقَ اللهُ عَلَيْهِ أَمْرَهُ، وَجَعَلَ فَقْرَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلَمْ يَأْتِهِ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللهُ لَهُ»
وَسُئِلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى؟ قَالَ: «هِي الْعَصْرُ»
ترجمہ

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی نیت آخرت ہو، اللہ اس کے تمام معاملات جمع کر دیتا ہے، اس کی بے نیازی اس کے دل میں ڈال دیتا ہے، اور دنیا اپنی مرضی کے خلاف اس کے پاس چلی آتی ہے۔ اور جس کی نیت دنیا ہو، اللہ اس کے معاملات بکھیر دیتا ہے، اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور اسے دنیا میں سے صرف وہی ملتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے لکھ دیا ہو۔“
اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے درمیانی نماز (صلاۃ الوسطیٰ) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”وہ عصر کی نماز ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الزاي / حدیث: 4872
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 143، حدیث 4891