کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم رضی اللہ عنہ، کنیت ابواروی۔ ربیعہ اور ان کے بھائی ابوسفیان بن حارث کی والدہ ایک ہی تھیں، یعنی عزہ بنت قیس بن طریف، جن کا تعلق حارث بن فہر کی اولاد سے تھا۔ ربیعہ کا انتقال 23 ہجری میں ہوا، اور ان کے سگے بھائی نوفل بن حارث، جن کی کنیت ابوالحارث تھی، کا انتقال مدینہ میں 15 ہجری میں ہوا
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ كَامِلٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدٌ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَا لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ: ائْتِيَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُولَا: يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ بَلَغَنَا مَا تَرَى مِنَ السِّنِّ، فَأَحْبَبْنَا أَنْ نَتَزَوَّجَ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ أَبَرُّ النَّاسِ وَأَوْصَلُهُمْ، وَلَيْسَ عِنْدَ أَبَوَيْنَا مَا يُصْدِقَانِ عَنَّا، فَاسْتَعْمِلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى الصَّدَقَاتِ، فَلْنُؤَدِّ إِلَيْكَ مَا يُؤَدِّي الْعُمَّالُ، وَلْنُصِبْ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ مَرْفَقٍ، قَالَ: فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَالَ لَنَا: لَا وَاللهِ لَا يَسْتَعْمِلُ مِنْكُمْ أَحَدًا عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ: هَذَا مِنْ حَسَدِكَ وبَغْيِكَ، وَقَدْ نِلْتَ صِهْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نَحْسُدْكَ عَلَيْهِ، فَأَلْقَى عَلِيٌّ رِدَاءَهُ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْيَوْمَ، وَاللهِ لَا أَدِيمُ مَقَامِي هَذَا حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْكُمَا ابْنَاكُمَا بِجَوَابِ مَا بَعَثْتُمَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ حَتَّى نُوَافِقَ صَلَاةَ الظُّهْرِ قَدْ قَامَتْ، فَصَلَّيْنَا مَعَ النَّاسِ، ثُمَّ أَسْرَعْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ إِلَى بَابِ حُجْرَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَقُمْنَا بِالْبَابِ حَتَّى أَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي وَأُذُنِ الْفَضْلِ، فَقَالَ: «اخْرُجَا مَا تُصَرِّرَانِ» ثُمَّ دَخَلَ فَأَذِنَ لِي وَلِلْفَضْلِ فَدَخَلْنَا، فَتَوَاكَلْنَا الْكَلَامَ قَلِيلًا، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ أَوْ كَلَّمَهُ الْفَضْلُ - قَدْ شَكَّ فِي ذَلِكَ عَبْدُ اللهِ - فَكَلَّمْنَاهُ بِالَّذِي أَمَرَنَا بِهِ أَبَوَانَا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ قِبَلَ سَقْفِ الْبَيْتِ حَتَّى طَالَ عَلَيْنَا أَنَّهُ لَا يَرْجِعُ إِلَيْنَا شَيْئًا، وَحَتَّى رَأَيْنَا زَيْنَبَ تَلْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ بِيَدِهَا تُرِيدُ أَنْ لَا نَعْجَلَ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرِنَا، ثُمَّ خَفَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَنَا: «إِنَّ هَذِهِ الصَّدَقَةُ إِنَّمَا هِي أَوْسَاخُ النَّاسِ وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ، ادْعُوا لِي نَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ» فَدُعِيَ لَهُ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَالَ: «يَا نَوْفَلُ أنْكِحْ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ» قَالَ: فَأَنْكَحَنِي نَوْفَلٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْعُوا لِي مَحْمِيَةَ بْنَ جَزْءٍ» وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي زُبَيْدٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْأَخْمَاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَحْمِيَةَ: «أَنْكَحْ الْفَضْلَ» فَأَنْكَحَهُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ فَأَصْدِقْ عَنْهُمَا مِنَ الْخُمُسِ كَذَا وَكَذَا» لَمْ يَسْمَعْهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ
ترجمہ
…اس دن آپ ﷺ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں تھے، تو ہم دروازے پر کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ ﷺ نے میرا اور فضل کا کان پکڑا اور فرمایا: ”باہر نکلو، تم کیا سرگوشیاں کر رہے ہو؟“ پھر اندر تشریف لے گئے، پھر مجھے اور فضل کو اجازت دی تو ہم اندر گئے، ہم دونوں نے تھوڑی دیر بات کرنے میں ایک دوسرے پر انحصار کیا، پھر میں نے یا فضل نے بات کی - عبداللہ کو اس میں شک ہے - تو ہم نے آپ ﷺ سے وہ بات کی جس کا ہمیں ہمارے والدین نے حکم دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، پھر آپ ﷺ نے اپنی نگاہ گھر کی چھت کی طرف اٹھائی، یہاں تک کہ ہمیں دیر لگنے لگی کہ آپ ﷺ ہمیں کوئی جواب نہیں دیں گے، اور یہاں تک کہ ہم نے دیکھا کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پردے کے پیچھے سے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہی ہیں کہ ہم جلدی نہ کریں اور رسول اللہ ﷺ ہمارے معاملے میں غور فرما رہے ہیں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر جھکایا اور ہم سے فرمایا: ”یہ صدقہ تو لوگوں کا میل کچیل ہے، اور یہ محمد ﷺ اور آلِ محمد ﷺ کے لیے حلال نہیں، میرے لیے نوفل بن حارث کو بلاؤ۔“ تو نوفل بن حارث کو بلایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے نوفل! عبدالمطلب کا نکاح کروا دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو نوفل نے میرا نکاح کروا دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے لیے محمیہ بن جزء کو بلاؤ“ - وہ بنی زبید کے ایک شخص تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے اخماس پر مقرر کیا ہوا تھا - تو رسول اللہ ﷺ نے محمیہ سے فرمایا: ”فضل کا نکاح کروا دو۔“ تو انہوں نے اس کا نکاح کروا دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہو اور خمس میں سے ان دونوں کی طرف سے اتنا اتنا مہر ادا کر دو۔“ - یہ بات عبداللہ بن حارث نے نہیں سنی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4551
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 54، حدیث 4566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُسْتَمْلِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الْمُطَّلِبِ بْنَ رَبِيعَةَ، أَخْبَرَهُ قَالَ: اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يُونُسَ بِطُولِ.
ترجمہ
محمد بن ہشام مستملی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبدالمطلب بن ربیعہ نے انہیں خبر دی، وہ کہتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے - پھر راوی نے یونس کی حدیث کی طرح، تفصیل سے، بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4552
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 54، حدیث 4567
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ: اجْتَمَعَ رَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَرَوَى الزُّهْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ ثَلَاثَةِ إِخْوَةٍ: عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَعُبَيْدِ اللهِ، وَمُحَمَّدٍ، وَهُمْ بَنُو عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ
ترجمہ
عبدالمطلب بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ربیعہ بن حارث اور سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما اکٹھے ہوئے - پھر راوی نے یونس کی حدیث جیسی حدیث بیان کی۔
اور زہری رحمہ اللہ نے یہ حدیث تین بھائیوں سے روایت کی ہے: عبداللہ، عبیداللہ اور محمد سے، جو عبداللہ بن حارث بن نوفل کے بیٹے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4553
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 54، حدیث 4568