کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَأَتَوْا بِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ، لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟» قُلْتُ: آكُلُ، قَالَ: «فَلَا تَرْمِ النَّخْلَ، وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا» ثُمُّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: «اللهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں انصار کی کھجوروں پر پتھر مارا کرتا تھا، جبکہ میں ایک لڑکا تھا، تو لوگ مجھے پکڑ کر نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لڑکے! تم کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں کھانا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں پر پتھر مت مارو، بلکہ جو کھجوریں نیچے گر جائیں انہیں کھاؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”اے اللہ! اس کا پیٹ بھر دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4444
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 19، حدیث 4459
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا صَالِحُ بْنُ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ فَأَخَذُونِي، فَذَهَبُوا بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: هَذَا يَرْمِي نَخْلَنَا فَقَالَ: «يَا رَافِعُ، لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولِ اللهِ أَجُوعُ قَالَ: «كُلْ مِمَّا وَقَعَ، أَشْبَعَكَ اللهُ وَأَرْوَاكَ»
ترجمہ
سیدنا رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں انصار کی کھجوروں پر پتھر مار رہا تھا، تو لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گئے اور کہا: یہ ہماری کھجوروں پر پتھر مارتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے رافع! تم ان کی کھجوروں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے بھوک لگتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو نیچے گر جائے وہ کھا لو، اللہ تمہیں سیر کرے اور سیراب کرے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4445
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 19، حدیث 4460
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانَ الْعَوَقِيُّ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: «سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقِ» قَالَ ابْنُ الصَّامِتِ: فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو، أَخَا الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا: فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ: «وَمَا أَعْجَبَكَ مِنْ هَذَا وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دوبارہ اس میں نہیں لوٹیں گے، وہ مخلوق میں سب سے بدترین ہوں گے۔“ سلیمان کہتے ہیں: میرا غالب گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا: ”ان کی پہچان سر منڈوانا ہوگی۔“ ابنِ صامت کہتے ہیں: پھر میری ملاقات رافع بن عمرو سے ہوئی، جو حکم بن عمرو غفاری کے بھائی تھے، تو میں نے ان سے کہا: میں نے ابوذر سے ایک حدیث سنی ہے جس میں وہ ایسے ایسے کہتے ہیں - پھر میں نے انہیں یہ حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: ”تمہیں اس پر تعجب کیوں ہے، میں نے بھی یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4446
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 19، حدیث 4461