حدیث نمبر: 4444
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، وَعُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ عَمِّ أَبِي رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلًا لِلْأَنْصَارِ وَأَنَا غُلَامٌ، فَأَتَوْا بِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا غُلَامُ، لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟» قُلْتُ: آكُلُ، قَالَ: «فَلَا تَرْمِ النَّخْلَ، وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا» ثُمُّ مَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ: «اللهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ»
ترجمہ

سیدنا رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں انصار کی کھجوروں پر پتھر مارا کرتا تھا، جبکہ میں ایک لڑکا تھا، تو لوگ مجھے پکڑ کر نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لڑکے! تم کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: میں کھانا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”درختوں پر پتھر مت مارو، بلکہ جو کھجوریں نیچے گر جائیں انہیں کھاؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”اے اللہ! اس کا پیٹ بھر دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4444
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 19، حدیث 4459