حدیث نمبر: 4446
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانَ الْعَوَقِيُّ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ، يَخْرُجُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ، شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ قَالَ: «سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقِ» قَالَ ابْنُ الصَّامِتِ: فَلَقِيتُ رَافِعَ بْنَ عَمْرٍو، أَخَا الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي ذَرٍّ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا: فَذَكَرْتُ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ: «وَمَا أَعْجَبَكَ مِنْ هَذَا وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ

عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دوبارہ اس میں نہیں لوٹیں گے، وہ مخلوق میں سب سے بدترین ہوں گے۔“ سلیمان کہتے ہیں: میرا غالب گمان ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا: ”ان کی پہچان سر منڈوانا ہوگی۔“ ابنِ صامت کہتے ہیں: پھر میری ملاقات رافع بن عمرو سے ہوئی، جو حکم بن عمرو غفاری کے بھائی تھے، تو میں نے ان سے کہا: میں نے ابوذر سے ایک حدیث سنی ہے جس میں وہ ایسے ایسے کہتے ہیں - پھر میں نے انہیں یہ حدیث سنائی۔ انہوں نے کہا: ”تمہیں اس پر تعجب کیوں ہے، میں نے بھی یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الراء / حدیث: 4446
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 5، صفحہ 19، حدیث 4461